اسرائیل کی جانب سے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر کیے جانے والے تازہ اور شدید فضائی حملوں میں کم از کم 3 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
لبنانی حکام اور میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کے روز اسرائیلی جنگی طیاروں نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ میں ایک عمارت کو نشانہ بناتے ہوئے 4 گائیڈڈ میزائل داغے۔ لبنان کی سول ڈیفنس ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ اس ہولناک بمباری کے نتیجے میں اب تک 3 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ملی ہے جبکہ کم از کم 7 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم آفس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ضاحیہ کے علاقے میں حزب اللہ کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس حملے کے بعد لبنان سے حزب اللہ کے ممکنہ جوابی حملوں کے پیشِ نظر اسرائیلی علاقوں میں خطرے کا الرٹ بھی ہائی کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے یہ تازہ ترین حملے ایک ایسے نازک وقت پر کیے گئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کو ختم کرنے کے تاریخی معاہدے پر دستخط ہونے جا رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے اس امن معاہدے کی بنیادی شرائط میں یہ بات واضح طور پر شامل ہے کہ لبنان پر اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے تمام حملوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور اس مرحلے پر ایران کی فوری ترجیح لبنان سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کو یقینی بنانا ہے، تاہم اس سفارتی پیش رفت کے دوران بیروت پر بمباری نے ماحول کو کشیدہ کر دیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بیروت پر اسرائیلی حملے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ ایک بار پھر یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکہ یا تو اپنی سفارتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا عزم نہیں رکھتا یا پھر وہ اس کی صلاحیت سے بالکل محروم ہے۔
باقر قالیباف نے دوٹوک انداز میں کہا کہ صیہونی حکومت کو اس طرح معصوم شہریوں پر حملوں کی کھلی چھوٹ دے کر امریکہ کوئی رعایت حاصل نہیں کر سکتا، نرمی اور سختی کی ملی جلی پالیسی کا دور اب گزر چکا ہے۔ اگر امریکہ میں عزم یا صلاحیت نہیں تو اس مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی بات کرنا ممکن نہیں۔
دوسری جانب ایران کی خاتم الانبیاء سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر اسدی نے بھی سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیروت میں کیے گئے اسرائیلی جرائم کا بدلہ لیے بغیر نہیں رہیں گے اور لبنانی دارالحکومت پر اسرائیلی فوج کے اس بزدلانہ حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا۔

