وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وزیر اطلاعات عطا تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کے ہمراہ اسلام آباد میں اہم پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور حکومت معاشی استحکام کے مرحلے سے نکل کر اب پائیدار معاشی ترقی (گروتھ) کی جانب بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں ہماری بنیادی ترجیح ایکسپورٹ لیڈ گروتھ، کاروبار دوست ماحول اور نچلے تنخواہ دار طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے۔
وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ چیمبرز آف کامرس اور کاروباری حلقوں کی جانب سے بجٹ پر انتہائی مثبت ردعمل موصول ہو رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری جنگ کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، تاہم وہاں امن قائم ہوتے ہی مہنگائی میں مزید کمی آئے گی۔
وزیر خزانہ نے تنخواہ دار طبقے کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر سب سے کم ٹیکس سلیب پر شرح کو 5 فیصد سے کم کر کے صرف 1 فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ 15 فیصد ٹیکس والے سلیب کو کم کر کے 13 فیصد کیا گیا ہے، جس سے نچلے طبقے کا بوجھ ہلکا ہو گا۔
برآمدات کے فروغ کے لیے حکومت نے تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے تمام برآمد کنندگان (ایکسپورٹرز) کے لیے سپر ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس کو ختم کرنے کی تجویز دی ہے اور انہیں سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے 70 سے 71 ارب روپے کی اضافی سبسڈی فراہم کی گئی ہے، جس کے بعد برآمد کنندگان کو ساڑھے 4 فیصد پر فنانسنگ دستیاب ہو گی۔
اس کے علاوہ پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی کم کی گئی ہے اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ آئی ٹی برآمدات بڑھ کر 4 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ تعمیراتی اور ہاؤسنگ شعبے کی حوصلہ افزائی کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکسوں کی شرح میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔
زرعی شعبے کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ایگریکلچر کریڈٹ و فنانسنگ کا حجم 15 فیصد اضافے کے ساتھ 2 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکا ہے اور چھوٹے کسانوں کو قرضوں کے حصول کے لیے اپنے گھر گروی رکھنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
حکومت نے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے زرعی مشینری اور سامان باہر سے منگوانے پر کسٹم ڈیوٹی، ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی کو مکمل طور پر صفر کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کے لیے یوتھ لون اسکیم کا حجم 262 ارب روپے رکھا گیا ہے، جس میں سے 125 ارب روپے صرف زراعت کے شعبے کے لیے مخصوص ہیں۔
وزیر خزانہ نے مزید واضح کیا کہ پیٹرولیم لیوی کی حد نہیں بڑھائی جا رہی اور صرف پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں کے مطابق لیوی میں ردوبدل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایس آئی ایف سی اور سرمایہ کاری بورڈ کے انضمام کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے تاکہ کام کی ڈپلیکیشن کا خاتمہ ہو سکے۔
پریس کانفرنس کے دوران وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی بجٹ کو عوامی اور پرو بزنس قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ریلیف کے پیچھے حکومت کی دو سال کی سخت عرق ریزی شامل ہے اور ایف بی آر سے سفارش کلچر کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

