بھارتی فضائیہ کا ٹرانسپورٹ طیارہ اے این 32 گر کر تباہ، 5 اہلکار ہلاک

بھارتی ریاست آسام میں بھارتی فضائیہ (IAF) کا ایک اہم ٹرانسپورٹ طیارہ اے این-32 (AN-32) ہولناک حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں فضائیہ کے 5 اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

بھارتی میڈیا اور جریدے ‘انڈیا ٹوڈے’ کے مطابق یہ حادثہ آسام کے ضلع جوروہاٹ میں اس وقت پیش آیا جب طیارے کے انجن میں دورانِ پرواز اچانک آگ بھڑک اٹھی۔

پائلٹس نے طیارے کو بچانے اور ہنگامی لینڈنگ کی بھرپور کوشش کی مگر طیارہ رن وے پر اترنے کے دوران بھارتی ایئر فورس اسٹیشن کی حدود میں ہی گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ گرتے ہی طیارے میں خوفناک آگ لگ گئی، تاہم خوش قسمتی سے طیارے کا کو پائلٹ اس حادثے میں معجزانہ طور پر زندہ بچنے میں کامیاب رہا۔

بھارتی فضائیہ نے حادثے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد فضائیہ کے حاضر سروس اہلکار تھے، جن کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

حادثے کے فوری بعد امدادی اور ریسکیو ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر کارروائیاں شروع کیں جبکہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرام نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ بھارتی فضائیہ کی جانب سے طیارہ گرنے کی اصل وجوہات کا پتا لگانے کے لیے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اے این-32 بھارتی فضائیہ کا ایک انتہائی اہم ٹرانسپورٹ طیارہ سمجھا جاتا ہے جو دشوار گزار علاقوں، بلند پہاڑی مقامات اور خراب موسمی حالات میں سامان اور اہلکاروں کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق بھارتی جنگی اور ٹرانسپورٹ طیاروں کے پے در پے حادثات عالمی سطح پر بھارت کی سخت بدنامی اور رسوائی کا سبب بن رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک بھارتی فضائیہ کے مجموعی طور پر

11 جنگی طیارے اور ایک ہیلی کاپٹر تباہی کا شکار ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی طیاروں کے ان مسلسل حادثات نے بھارت کی نام نہاد جنگی تیاریوں اور دفاعی کھوکھلے پن کو دنیا کے سامنے مکمل طور پر عیاں کر دیا ہے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے ہوئے یہ فضائی حادثات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ بھارتی فضائیہ اندرونی طور پر شدید بوکھلاہٹ، لاپرواہی اور تکنیکی زوال کا شکار ہو چکی ہے، جس کے باعث ان کا فضائی دفاعی نظام شدید بحران سے گزر رہا ہے۔