ایران کے ساتھ تاریخی امن معاہدے پر کل دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے فوری طور پر کھول دی جائے گی، ٹرمپ کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی اور انتہائی اہم امن معاہدے پر کل دستخط کیے جائیں گے، جس کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کو دنیا کے تمام ممالک کے لیے فوری طور پر کھول دیا جائے گا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ بات اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک تفصیلی بیان میں کہی۔ انہوں نے اس مجوزہ معاہدے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بہت بڑی اور تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس بار معاہدے میں کسی قسم کا کوئی مالی لین دین یا رقم کا تبادلہ شامل نہیں ہو گا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران اب نہ تو جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی وہ اسے خریدنے، تیار کرنے یا کسی بھی دوسرے طریقے سے حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہو گا کیونکہ یہ نیا معاہدہ ایٹمی ہتھیاروں کے راستے میں ایک مضبوط دیوار کی مانند ہے۔
اپنے بیان میں امریکی صدر نے سابق صدر باراک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اوباما کا معاہدہ ایک ایسا آسان اور ہموار راستہ تھا جو ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے قریب لے جا رہا تھا اور اگر وہ نافذ رہتا تو ایران 6 سال پہلے ہی جوہری ہتھیار حاصل کر کے اب تک استعمال بھی کر چکا ہوتا، جبکہ موجودہ مجوزہ معاہدہ اس کے بالکل برعکس اثر رکھتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے کے تحت مناسب وقت پر جب حالات پرسکون ہو جائیں گے، تو امریکہ جا کر ایران کے پہاڑوں کے نیچے گہرائی میں محفوظ افزودہ یورینیم اور ایٹمی مواد کی باقیات حاصل کر لے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات اب ماضی کی کسی بھی انتظامیہ کے مقابلے میں بالکل مختلف اور بہت بہتر ہیں۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس اہم پیش رفت پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات مکمل طور پر کامیاب ہونے کی صورت میں اس معاہدے پر ڈیجیٹل طور پر دستخط کیے جائیں گے اور اس کا باضابطہ اعلان ہو گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ عبوری معاہدہ پہلا قدم ہے اور اگر یہ نافذ نہ ہوا تو مستقبل میں کوئی جوہری مذاکرات نہیں ہوں گے۔ واضح رہے کہ فریقین امریکہ اور ایران سمیت ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملک پاکستان نے بھی تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی معاہدے کا مسودہ اب تکمیل کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ ایران اور پورے مشرق وسطیٰ کے ساتھ مستقبل میں طویل عرصے تک مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں اور امید ہے کہ یہ سارا عمل تیزی اور آسانی سے مکمل ہو جائے گا، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو امریکہ کے پاس آخری اور فیصلہ کن متبادل راستہ بھی موجود ہے۔

