ایرانی حکام نے ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ، تعزیتی تقریبات اور تدفین کی حتمی تاریخوں کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
ایرانی میڈیا اور سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق شہید رہبرِ انقلاب اور ان کے بعض اہل خانہ کی یاد میں عوامی سطح پر دعائیہ، تعزیتی اور الوداعی تقریبات کا باقاعدہ آغاز 4 اور 5 جولائی کو دارالحکومت تہران کے امام خمینی مصلیٰ سے ہو گا، جہاں عوام اور سرکاری شخصیات کو ان کے آخری دیدار کا موقع فراہم کیا جائے گا۔
اس کے بعد 6 جولائی کو تہران میں شہید آیت اللہ خامنہ ای کی پہلی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی اور ان کا جنازہ جلوس کی صورت میں لایا جائے گا، جبکہ اگلے روز یعنی 7 جولائی کو مقدس شہر قم میں بھی ان کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق ان تمام مراحل سے گزارنے کے بعد شہید سپریم لیڈر کے جسدِ خاکی کو ایران کے اہم مذہبی شہر مشہد منتقل کیا جائے گا، جہاں 9 جولائی کو تاریخی جلوسِ جنازہ نکالا جائے گا اور اسی روز ان کی تدفین مشہد مقدس میں واقع روضہ امام رضا علیہ السلام کے احاطے میں کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای فروری کے آخری روز ایران پر ہونے والے اسرائیلی اور امریکی مشترکہ حملے میں عسکری قیادت اور اپنے قریبی رفقا سمیت شہید ہو گئے تھے۔
انہوں نے 1989 میں ایران کے بانی رہنما آیت اللہ روح اللہ امام خمینی کے انتقال کے بعد ایران کے سپریم لیڈر کا منصب سنبھالا تھا اور اپنے دورِ قیادت میں متعدد علاقائی اور بین الاقوامی بحرانوں میں مرکزی کردار ادا کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان الوداعی تقریبات اور تدفین کے مرکزی مرحلے میں بہت بڑی تعداد میں ملکی و غیر ملکی اہم ترین سیاسی و مذہبی شخصیات اور لاکھوں سوگواروں اور عقیدت مندوں کی شرکت متوقع ہے، جس کے لیے تہران اور مشہد انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے غیر معمولی سیکیورٹی فورسز تعینات کی جائیں گی۔
واضح رہے کہ رواں برس مارچ سے آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران کے نئے سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھال لیا ہے جو خود بھی اسی حملے میں شدید زخمی ہو گئے تھے جس میں ان کے والد شہید ہوئے تھے۔ اب تدفین کا شیڈول سامنے آنے کے بعد دنیا بھر کے عقیدت مندوں کی توجہ اس تاریخی موقع پر مرکوز ہو گئی ہے۔

