ایران کے بیلسٹک میزائل حملے میں ‘رمات ڈیوڈ’ ایئربیس کے تباہ ہونے کی تصدیق، سیٹلائٹ تصاویر نے پول کھول دیا
تل ابیب: مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید تنازع کے دوران اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا ہے کہ رواں ہفتے ایران کی جانب سے کیے گئے ہلاکت خیز بیلسٹک میزائل حملوں میں اسرائیل کے انتہائی سٹریٹجک اور اہم ترین ‘رمات ڈیوڈ ایئربیس’ کو نقصان پہنچا ہے۔
اس سے قبل اسرائیل اپنے فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے اثرات کو مسلسل چھپاتا آ رہا تھا، تاہم بین الاقوامی سیٹلائٹ تصاویر منظرِ عام پر آنے کے بعد اسرائیلی فوج کو اس کا اعتراف کرنا پڑا۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، گزشتہ روز سامنے آنے والی ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر میں اسرائیل کے رمات ڈیوڈ فضائی اڈے کے اندر ایک بڑے گودام اور طیاروں کے ہینگر کے قریب شدید نقصان اور تباہی کے واضح آثار دیکھے گئے تھے۔
ترجمان اسرائیلی فوج نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق فضائی اڈے کے گودام کو پہنچنے والا نقصان ایرانی میزائل کے براہِ راست ہٹ کرنے سے نہیں ہوا۔ بلکہ جب اسرائیلی دفاعی نظام نے ایرانی بیلسٹک میزائل کو فضا میں انٹرسیپٹ (تباہ) کیا، تو اس کا انتہائی وزنی ملبہ اور جلتے ہوئے ٹکڑے ایئربیس کے گودام پر آ گرے جس سے اسے جزوی نقصان پہنچا۔
اسرائیلی فوجی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں کسی قسم کا قیمتی فوجی سازوسامان یا لڑاکا طیارے متاثر نہیں ہوئے اور نہ ہی کسی اہلکار کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع ملی ہے۔
فوج کے مطابق، رمات ڈیوڈ ایئربیس کی آپریشنل اور معمول کی سرگرمیاں بلا تعطل جاری ہیں۔ واضح رہے کہ رامات ڈیوڈ اسرائیلی فضائیہ کے چند بڑے اور اہم ترین اڈوں میں شمار ہوتا ہے، جو لبنان اور شام کے خلاف شمالی محاذ پر فضائی بمباری اور فوجی کارروائیوں میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے، اسی لیے اس پر حملے کو خطے میں خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ رواں ہفتے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ اس وقت خطرناک ترین نہج پر پہنچ گئی تھی جب ایران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کی ایک بہت بڑی لہر داغی تھی۔
ایران کا موقف تھا کہ یہ کارروائی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی مفادات پر حملوں کا منہ توڑ جواب تھی۔ ان ہولناک حملوں کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل سے ایک دوسرے پر مزید حملے فوری طور پر روکنے کی ہنگامی درخواست کی تھی، جس پر دونوں ممالک نے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا اور خطے میں جاری بارود کی بارش فی الحال تھم گئی ہے۔

