کل بھی ایران پر حملے کیے تھے، اگر معاہدے پر دستخط نہ کیے تو آج پھر بجلی گھروں اور پلوں پر شدید بمباری کریں گے؛ ٹرمپ کی دھمکی
واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین جنگی بحران کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے عالمی برادری اور سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے ہنگامی گفتگو اور امریکی نشریاتی ادارے ‘فوکس نیوز’ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی خصوصی درخواست پر ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کو عارضی طور پر روکا تھا، تاہم اگر ایران نے مجوزہ معاہدے پر دستخط نہ کیے تو اس پر دوبارہ بمباری شروع کر دی جائے گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارتی محاذ پر پاکستان کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ "ہم نے پاکستان کی درخواست اور ان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کے پیشِ نظر ایران کے خلاف بعض بڑے فوجی ایکشن روک دیے تھے۔ پاکستان اب بھی ایران معاملے پر کشیدگی کم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف انتہائی اچھے دوست اور بہترین شخصیات ہیں۔”
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک تند و تیز بیان میں دعویٰ کیا کہ حالیہ امریکی حملوں کے بعد ایران کی فوج، بالخصوص اس کی بحریہ اور فضائیہ عملاً تباہ ہو چکی ہے اور اب وہ صرف باتیں کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ ایک ایسا جوہری معاہدہ چاہتے ہیں جو محض کاغذی کارروائی نہ ہو بلکہ عملی طور پر مؤثر ہو۔
ٹرمپ کے مطابق، ایران اصولی طور پر اس بات پر رضامند ہو چکا ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور اب صرف اس فیصلے پر حتمی دستخط ہونا باقی ہیں، لیکن تہران جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کر کے امریکہ کو دھوکا دینے کی کوشش کر رہا ہے جس کی اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
امریکی صدر نے ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو اڑانے کے نئے منصوبے پر غور شروع کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے واشنگٹن میں میڈیا کو بتایا کہ "ہم نے کل بھی ایران کو سخت ضرب لگائی تھی اور اگر انہوں نے وقت گزاری کی تو ہم آج بھی ان پر بھرپور حملہ کریں گے۔ میں یہ نہیں بتاؤں گا کہ ہمارے اگلے اہداف کیا ہیں، لیکن ہمارے تمام آپشنز تیار ہیں۔”
واضح رہے کہ یہ کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچی جب آبنائے ہرمز میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرایا گیا، جس کا ذمہ دار امریکہ نے ایران کو ٹھہرایا تھا۔ عالمی میڈیا کے مطابق، اس جنگی صورتِ حال میں امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو مکمل طور پر ‘ایک صفحے’ پر آ چکے ہیں اور دونوں رہنماؤں کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر رابطہ برقرار ہے تاکہ ایران کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل کو حتمی شکل دی جا سکے۔

