ایران دھمکیوں سے پیچھے ہٹنے والا نہیں، کسی فوجی طاقت کے آگے کبھی سرتسلیم خم نہیں کریں گے، مسعود پزشکیان

تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست فضائی و میزائل جنگ کے بعد سفارتی محاذ پر بھی شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دوبارہ شدید حملوں کا نشانہ بنانے اور ملکی بنیادی ڈھانچے (Infrastructures) کو تباہ کرنے کی تازہ دھمکیوں پر ایرانی صدر مسعود پزیشکیان اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے انتہائی سخت، دوٹوک اور کرشماتی جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی دباؤ یا فوجی جارحیت کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو اور اپنے بیانات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ایک بار پھر شدید برہم ہوتے ہوئے الزام لگایا کہ "ایران مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے اور امریکہ کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔” آبنائے ہرمز کے قریب امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے بعد شروع ہونے والی جنگی کشیدگی کو آگے بڑھاتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کھلی دھمکی دی کہ "امریکہ آج ایران کو پھر شدید حملوں کا نشانہ بنائے گا اور ایران کے پلوں، ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس، بجلی گھروں اور پانی کے انفراسٹرکچرز کو تباہ کر دیا جائے گا۔”

تہران میں بانیِ انقلاب آیت اللہ خمینی کی برسی کی تقریب اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر اپنے الگ الگ بیانات میں ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے صدر ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے پر بمباری کی دھمکیاں امریکی طاقت کی نہیں بلکہ ایک غیرت مند قوم کے عزم کے سامنے اس کی بے بسی اور مایوسی کی علامت ہیں۔

صدر مسعود پزیشکیان نے کہا "کسی بھی ملک کو طیاروں اور بمباری کے ذریعے سرینڈر (ہتھیار ڈالنے) پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ دشمن غزہ کو تین سال کی بدترین بمباری کے بعد بھی سرینڈر کرنے پر مجبور نہیں کر سکے، تو وہ ایران جیسے عظیم ملک سے یہ توقع کیسے رکھ سکتے ہیں؟ دشمن کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا، ایران جھکنے والا ملک نہیں ہے۔”

ایرانی صدر نے واضح کیا کہ اگرچہ طویل جنگ خود ایران کے مفاد میں بھی نہیں ہے اور وہ اس ‘غیر یقینی صورتِ حال’ (نہ مکمل جنگ، نہ پائیدار امن) سے نکلنا چاہتے ہیں، لیکن ملک کی خودمختاری اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے حکومت کو مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کی واضح اجازت دیتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ ‘جاؤ اور اس مسئلے کو حل کرو’، لیکن امریکہ نے جنگ کا راستہ چنا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عرب ممالک کو ایران کے خلاف متحد کرنے کا امریکی و اسرائیلی منصوبہ ایرانی سفارت کاری نے ناکام بنا دیا ہے۔

دوسری جانب، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کو سخت ترین پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر غیر ملکی اور امریکی افواج خطے میں محفوظ رہنا چاہتی ہیں تو انہیں فوراً یہاں سے نکل جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خلیج فارس کی تاریخ بیرونی مداخلت کاروں کے عبرت ناک انجام کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔

عباس عراقچی نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ "آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کوئی بین الاقوامی پانی نہیں ہے، بلکہ یہ ایران اور عمان کے درمیان ایک مشترکہ آبی گزرگاہ ہے جو امریکہ کے ساحلوں سے ہزاروں میل دور واقع ہے۔ انسانی غلطی، کسی حادثے یا ممکنہ کراس فائر کے باعث یہ کشیدگی اب کسی بھی وقت ہولناک رخ اختیار کر سکتی ہے، اس لیے خطے کی مسلح افواج ہر قسم کی فضائی، زمینی اور بحری خلاف ورزی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہائی الرٹ ہیں۔”