کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اقدامات کو بھارتی میڈیا ‘آپریشن سندور 2’ کا نام دے کر پروپیگنڈا کر رہا ہے، رانا ثنا اللہ

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے سینیٹ اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر کی حالیہ صورتِ حال پر ہالینڈ مچا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

انہوں نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے آزاد کشمیر کی کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ انتہائی خلوص کے ساتھ مذاکرات کیے اور ان کے 38 میں سے 37 مطالبات پر تحریری معاہدہ بھی کیا، لیکن کمیٹی کے بعض ایسے مطالبات سامنے آئے ہیں جو ملک دشمنی اور آئینِ کشمیر کے منافی ہیں۔

سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے مذاکرات کے دوران یہ ملک دشمن مطالبہ کیا کہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق والی چیزیں حلف نامے سے نکال دی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے ان سے کہا کہ اگر آپ کو اعتراض ہے تو ہم ریفرنڈم میں یہ سوال رکھ دیتے ہیں، لیکن انہوں نے ریفرنڈم ماننے سے بھی انکار کر دیا۔ وہ آل پارٹیز کانفرنس (APC) اور قانون ساز اسمبلی کو بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کا مقصد 4 اگست سے پہلے ہونے والے انتخابات کو سبوتاژ کرنا ہے۔ اب وہ مظفر آباد پر لشکر کشی اور فائرنگ کر رہے ہیں، جبکہ بھارتی میڈیا اور چینلز اس شورش کو باقاعدہ ‘آپریشن سندور-2’ کا نام دے کر اچھال رہے ہیں۔”

رانا ثنا اللہ نے ایوان کو پسِ منظر بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ایکشن کمیٹی 2023ء میں گندم پر سبسڈی اور بجلی کی سستی فراہمی کے مطالبات لے کر سامنے آئی تھی۔ وفاقی حکومت نے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر سوشل ویلفیئر کے تحت 30 ارب روپے کا پیکیج دیا، جس میں سے 10 ارب روپے بجلی منصوبے کے لیے فراہم کیے گئے۔ اس وقت پورے پاکستان میں عوام 48 روپے یونٹ بجلی دے رہے ہیں جبکہ آزاد کشمیر کے عوام کو محض 3 روپے فی یونٹ بجلی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو دیرینہ مطالبات پورے کرنے پر شکریہ ادا کرنے کے بجائے وہ 38 نئے مطالبات لے آئے۔

مشیرِ سیاسی امور کے مطابق، اصل ڈیڈ لاک مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں کو ختم کرنے کے مطالبے پر ہے۔ ایکشن کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ مہاجرین کی نشستیں ختم کی جائیں اور ان کے منتخب اراکین کو کوئی وزارت، فنڈز یا سرکاری نوکریوں میں کوٹہ نہ دیا جائے۔

رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق موجودہ اسمبلی کسی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے یہ نشستیں ختم نہیں کر سکتی۔ انہوں نے صراحت کی کہ اگر مہاجرین کی نمائندگی ختم کر دی گئی تو جموں و کشمیر کی آزادی کی سیاسی اور جمہوری تحریک شدید کمزور پڑ جائے گی، جبکہ شہید مقبول بٹ خود بھی ایک مہاجر تھے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ شرپسندوں سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا اور پاکستان ہر قیمت پر آزاد کشمیر کا تحفظ کرے گا۔

سینیٹ اجلاس کے دوران رانا ثنا اللہ نے گلگت بلتستان میں ہونے والے حالیہ انتخابات کا تذکرہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتوں نے بھرپور مہم چلائی اور 65 فیصد سے زائد لوگوں نے ووٹ کاسٹ کیا، جس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا اور عالمی سطح پر اسے شفاف قرار دیا گیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جن چند حلقوں سے انتخابی شکایات موصول ہوئی ہیں، وہاں انتخابی عمل کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے 15 جون 2026ء کو ری پولنگ (دوبارہ پولنگ) کرائی جائے گی۔