اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس منعقد ہوا، جس میں کونسل نے باہمی اتفاقِ رائے سے 4 نکاتی ایجنڈے سمیت آئندہ مالی سال 2026-2027 کے لیے 3,669 ارب روپے کے مجموعی ترقیاتی بجٹ (نیشنل ڈیوپلمنٹ اؤٹ لے) اور اہم معاشی اہداف کی منظوری دے دی ہے۔
اجلاس میں چاروں صوبوں کی قیادت نے شرکت کی۔ سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ، خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب سرفراز بگٹی نے وفاق اکائیوں کی نمائندگی کی، جبکہ پنجاب کی جانب سے سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب شریک ہوئیں۔ وفاقی وزراء اسحاق ڈار، خواجہ آصف، احسن اقبال اور محمد اورنگزیب بھی اجلاس کا حصہ تھے۔
قومی اقتصادی کونسل نے وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کی تقسیم درج ذیل دائرہ کار کے تحت منظور کی ہے:
- وفاقی پی ایس ڈی پی (PSDP): آئندہ مالی سال کے لیے اس کا حجم 1,000 ارب روپے رکھا گیا ہے۔
- صوبائی ترقیاتی پروگرام (ADP): صوبوں کے سالانہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2,218 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
- سرکاری ادارے (SOEs): سرکاری کارپوریشنز کے پروگرامز کے لیے 451 ارب روپے کی منظوری دی گئی ہے۔
قومی اقتصادی کونسل نے مالی سال 2025-2026 کے لیے مجموعی قومی پیداوار (GDP) کی عبوری شرح نمو کو 3.7 فیصد پر برقرار رکھنے کی توثیق کی، جبکہ آئندہ مالی سال 2026-2027 کے لیے معاشی ترقی (جی ڈی پی) کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ملک کا باقاعدہ ‘قومی اقتصادی سروے’ (Economic Survey) کل دن 2 بجے کے بعد جاری کیا جائے گا، جس میں رواں مالی سال کے دوران حکومت کی مجموعی معاشی کارکردگی کا اسکور کارڈ سامنے آئے گا۔ عبوری دستاویزات کے مطابق:
- زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 4.5 فیصد تھا جو 2.89 فیصد رہا۔
- صنعتی شعبے کی گروتھ 4.30 فیصد ہدف کے مقابلے میں 3.51 فیصد تک محدود رہی۔
- خدمات (Services) کے شعبے نے 4 فیصد ہدف کے مقابلے میں 4.09 فیصد کی بہتر شرح دکھائی۔
- ملک میں ڈالر کی شکل میں فی کس آمدن 150 ڈالر کے اضافے سے 1901 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تمام وفاقی اکائیاں اگر اسی یکجہتی اور ٹیم ورک کے جذبے سے کام کریں گی تو ملک معاشی خود انحصاری کی منزل حاصل کر لے گا۔
انہوں نے کہا کہ خلیج میں حالیہ کشیدگی کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں، لیکن بروقت اقدامات سے پاکستان میں پیٹرول کی سپلائی لائن متاثر نہیں ہونے دی گئی اور عوام کو 128 ارب روپے کا ریلیف بھی دیا گیا۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ بڑھتی ہوئی آبادی، اسکول سے باہر بچے، اور نوجوانوں کا روزگار ملک کے بڑے چیلنجز ہیں۔ انہوں نے برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ دینے، اور سکیورٹی و دفاعی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وسائل کی فراہمی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔
اجلاس میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے ذریعے میگا ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کا پائلٹ پروجیکٹ شروع کرنے کی بھی منظوری دی گئی، جبکہ ‘اڑان پاکستان’ کے تحت قومی معاشی ترقی کے 11 مشنز کی منظوری دی گئی۔

