واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ متوقع امن و جوہری معاہدے کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور جرات مندانہ بیان دے کر عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ "امریکی عوام کے لیے ایک بڑی کامیابی” ثابت ہوگا، قطع نظر اس کے کہ اسرائیل اس فیصلے کو پسند کرتا ہے یا نہیں۔
فاکس نیوز (Fox News) کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں نائب صدر جے ڈی وینس نے پاک امریکہ اسرائیل تعلقات کی پیچیدگیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کئی مشترکہ مفادات موجود ہیں، تاہم کچھ حساس معاملات ایسے بھی ہیں جہاں دونوں ممالک کی ترجیحات اور قومی مفادات ایک دوسرے سے مختلف ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا، "صدر ٹرمپ نے اس معاملے پر اپنا موقف واضح کر دیا ہے؛ اسرائیل کے اپنے اہداف ہو سکتے ہیں، لیکن امریکہ کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔”
جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں وائٹ ہاؤس نے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ایسے سازگار حالات پیدا کیے ہیں جن کے تحت ایک ایسا جوہری معاہدہ ممکن ہو چکا ہے جو 2015 میں سابق صدر براک اوباما کے دور میں ہونے والے ‘ایران نیوکلیئر ڈیل’ (JCPOA) سے کہیں زیادہ بہتر، مضبوط اور طویل المدتی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ماحول ایران کے جوہری پروگرام کے مستقل حل تک پہنچنے کے لیے بہترین موقع فراہم کر رہا ہے اور اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "اب اسرائیل اسے پسند کرے یا نہ کرے، لیکن بنیادی طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ (معاہدہ) امریکہ کے بہترین مفاد میں ہے۔”
یاد رہے کہ یہ بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بہت اچھا اور طاقتور معاہدہ آئندہ دو سے تین روز کے اندر طے پا سکتا ہے۔ عالمی ماہرین جے ڈی وینس کے اس بیان کو اسرائیل کے لیے ایک واضح پیغام قرار دے رہے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنی خارجہ پالیسی میں "امریکہ سب سے پہلے” (America First) کے اصول پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

