10 ہزار پاکستانیوں کا برطانیہ میں اسٹوڈنٹ ویزے کے غلط استعمال کا انکشاف
اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اہم اجلاس چیئرمین راجہ خرم نواز کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ملک میں غیر قانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ، پاسپورٹ کی نئی پالیسی اور فوجداری قوانین میں بڑی اصلاحات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں وزارتِ داخلہ، ایف آئی اے اور وزارتِ قانون کے حکام نے شرکت کی۔
ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ 10 ہزار پاکستانی اسٹوڈنٹ ویزے پر برطانیہ گئے اور وہاں جا کر سیاسی پناہ (Asylum) کی درخواست دے دی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ عمل بیرونِ ملک پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے اور یورپی یونین سمیت کئی ممالک نے اس معاملے کو پاکستان کے ساتھ اٹھایا ہے۔ مزید برآں:
- رواں سال 7 ہزار پاکستانی آذربائیجان اور 580 بیلاروس گئے مگر واپس نہیں آئے۔
- انسانی اسمگلنگ کے لیے ملائیشیا اور ازبکستان کے ذریعے نئے روٹس سامنے آئے ہیں۔
- سال 2025 میں دستاویزات کی کمی پر 39,786 افراد کو آف لوڈ کیا گیا، جبکہ انٹرپول الرٹس پر 3 ہزار سے زائد افراد روکے گئے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ پاکستان سے غیر قانونی امیگریشن میں 47 فیصد کمی آئی ہے، جس کا اعتراف امریکہ اور یورپ نے بھی کیا ہے۔ انہوں نے گمشدہ پاسپورٹ سے متعلق نئی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بار بار پاسپورٹ گم ہونا مشکوک تصور کیا جائے گا اور ہر ایسے کیس کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 80 سال پرانے فوجداری قوانین میں ترامیم پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ سی آر پی سی (CrPC) سے متعلق 55 قوانین میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ ان اصلاحات کا مقصد نظامِ عدل کو جدید بنانا اور مدعی (Complainant) کو سہولیات فراہم کرنا ہے، کیونکہ موجودہ قوانین میں ملزم کے لیے سہولتیں زیادہ ہیں۔ مقدمات کا اندراج اور دیگر سروسز کو آن لائن کیا جا رہا ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے انصاف کی فراہمی تیز ہو۔
