واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیران کن اور بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکا اور ایران ایک انتہائی مضبوط، مؤثر اور جامع معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات کا عمل رکا نہیں ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کا ایک بڑا معاہدہ اپنے ‘آخری مراحل’ میں داخل ہو چکا ہے جو اگلے دو سے تین دن کے اندر سامنے آ سکتا ہے۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران پر عائد کی جانے والی حالیہ بندرگاہی ناکہ بندی اور سخت اقتصادی پابندیوں نے تہران پر بمباری کے مقابلے میں کہیں زیادہ دباؤ ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا، "اگر امریکا چاہتا تو ایران پر مزید دو یا تین ہفتے تک آسانی سے بمباری کر سکتا تھا، لیکن اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوتا جسے ہم ہرگز نہیں چاہتے تھے۔” ان کے مطابق فوجی طاقت کے بجائے اقتصادی اور سفارتی دباؤ کا امتزاج زیادہ مؤثر ثابت ہوا ہے۔
امریکی صدر نے فوجی کارروائی سے گریز کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر وسیع پیمانے پر بمباری کی جاتی تو اس کے ردِعمل میں عالمی تجارت کے لیے اہم ترین بحری راستہ ‘آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) طویل عرصے کے لیے بند ہو سکتا تھا۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل بری طرح متاثر ہوتی اور پوری دنیا کی معیشت پر اس کے سنگین اور بھیانک اثرات مرتب ہوتے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف عائد کردہ سخت پابندیاں اور سمندری ناکہ بندی مکمل طور پر برقرار ہے۔ اس وقت ایران سے نہ تو تیل کی ترسیل ہو رہی ہے اور نہ ہی تہران کو کوئی بیرونی آمدن حاصل ہو رہی ہے۔ اسی شدید اقتصادی بحران کے باعث تہران اب ایک ایسا معاہدہ کرنے پر آمادہ ہو رہا ہے جو ماضی کے تمام معاہدوں سے زیادہ طاقتور اور پائیدار ہوگا۔
عالمی سیاسی ماہرین امریکی صدر کے اس بیان کو مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک بہت بڑا یو ٹرن (U-turn) قرار دے رہے ہیں، کیونکہ یہ دعوے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں ایران، اسرائیل کشیدگی اور جنگ بندی کی سفارتی کوششیں عروج پر ہیں۔

