واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز اور عمان کے ساحل کے قریب امریکی فوج کا ایک ‘اپاچی اے ایچ-64’ گن شپ ہیلی کاپٹر سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہیلی کاپٹر میں سوار عملے کے دونوں ارکان کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، یہ حادثہ روزانہ کی معمول کی پرواز اور گشت کے دوران پیش آیا۔ ہیلی کاپٹر گرنے کے فوراً بعد ایک ہنگامی ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا اور محض دو گھنٹے کے اندر اندر سمندر میں ڈوبنے والے دونوں اہلکاروں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں پائلٹس کی حالت اب بالکل مستحکم ہے اور انہیں ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، تاہم ہیلی کاپٹر مکمل طور پر سمندر برد ہو گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ اور امریکی میڈیا کے مطابق، فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ ہیلی کاپٹر کسی تکنیکی خرابی اور خراب موسم کا شکار ہوا یا اسے ایرانی فورسز کی جانب سے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ خوش قسمتی سے ہیلی کاپٹر کے دونوں پائلٹس محفوظ ہیں اور کسی کو کوئی سنگین چوٹ نہیں آئی۔ ہیلی کاپٹر گرنے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے باریک بینی سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور اس حوالے سے باضابطہ رپورٹ جلد جاری کی جائے گی۔
امریکی محکمہ خارجہ اور پینٹاگون نے فی الحال اس معاملے پر مزید گہرائی میں جانے سے گریز کیا ہے۔
یہ حادثہ ایک ایسے نازک وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہے۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کے بعد حال ہی میں ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر براہِ راست حملے روکنے کا اعلان کیا ہے، لیکن تاحال کشیدگی کے بادل پوری طرح نہیں چھٹے۔
ایران نے خبردار کر رکھا ہے کہ اگر لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں تو وہ دوبارہ میزائل حملے شروع کر سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں آبنائے ہرمز جیسے اہم ترین تجارتی اور توانائی کی سپلائی کے روٹ پر امریکی ہیلی کاپٹر کا گرنا عالمی منڈیوں اور دفاعی ماہرین کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

