واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین فوجی تصادم کے بعد ایک بڑی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت انتباہ اور فوری جنگ بندی کے مطالبے پر اسرائیل اور ایران دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف فضائی اور میزائل حملے فوری طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اہم فیصلے کے بعد خطے میں پھیلی بڑی جنگ کی ہولناکی فی الحال تھمتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک ہنگامی بیان جاری کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر فائرنگ اور حملے بند کریں۔ صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ دونوں فریق (اسرائیل اور ایران) فوری جنگ بندی چاہتے ہیں اور ‘امن’ کے حوالے سے حتمی مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حتمی معاہدہ ہونے تک ناکہ بندی پوری شدت کے ساتھ نافذ رہے گی اور اب معاملات کو تیزی سے آگے بڑھنا چاہیے۔
برطانوی اخبار ‘فنانشل ٹائمز’ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے پاس ایران کے ساتھ معاہدہ قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا، اور اگر یہ سفارت کاری ناکام ہوئی تو امریکا ایران پر کمانڈو آپریشن جیسے آپشنز پر غور کر سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اتوار کی رات جب ایران نے بیروت پر اسرائیلی جارحیت کے جواب میں اسرائیل کے ‘نیوتم’ اور ‘تل نوف’ ایئر بیسز پر بیلسٹک میزائل داغے، تو صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان پیر کے روز اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔
گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو واضح طور پر خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے ایران پر دوبارہ جوابی حملہ کیا تو امریکا اس فوجی مہم میں اسرائیل کا ساتھ نہیں دے گا۔ اس امریکی دباؤ کے بعد اسرائیلی قیادت نے ایران پر مزید حملے روکنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
دوسری جانب ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ ہیڈکوارٹر ‘خاتم الانبیاء’ نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف جاری فوجی آپریشن فی الحال روک دیا گیا ہے۔ ترجمان ابراہیم ذوالفقاری کا کہنا تھا کہ اسرائیل پر بیلسٹک میزائل حملے لبنان کے عوام کی حمایت اور صیہونی جارحیت کا ‘دردناک اور مؤثر’ جواب تھے، جس سے اسرائیل اور اس کے حامیوں کو سبق سیکھنا چاہیے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں اسرائیل نے دوبارہ کوئی اشتعال انگیزی کی تو اسے بغیر کسی لگی لپٹی کے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
اسرائیلی میڈیا کو ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ امریکا کی اس یقین دہانی پر کہ ‘اگر ایران میزائل حملے بند رکھے تو اسرائیل بھی کارروائی نہیں کرے گا’، عسکری مہم معطل کی جا رہی ہے۔ تاہم اسرائیلی سیاسی و فوجی حکام نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کا مرحلہ اختتام کے قریب ہو سکتا ہے لیکن جنوبی لبنان اور بیروت میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوجی مہم بدستور جاری رہے گی اور اس میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
دوسری طرف چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بھی مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے جنگ بندی برقرار رکھنے کی امید ظاہر کی ہے۔

