پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان انتخابات مسترد کر دیے؛ بیرسٹر گوہر کا ‘پری پول دھاندلی’ کا الزام

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کے نتائج کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں ‘جعلی اور دھاندلی زدہ’ قرار دے دیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انتخابی عمل میں بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری کا الزام عائد کیا اور اس کے خلاف ملک گیر احتجاج اور وائٹ پیپر جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں صاف اور شفاف انتخابات نہیں کروائے گئے بلکہ انتخابی عمل شروع ہونے سے پہلے ہی ‘پری پول دھاندلی’ کا تانا بانا بنا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک خاص منصوبے اور حکمتِ عملی کے تحت تحریک انصاف کو اس پورے انتخابی عمل سے باہر دھکیلا گیا، جو کہ جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنی پارٹی کی پوزیشن پر گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ "ہم گلگت بلتستان کی 8 نشستوں پر 100 فیصد پوزیشن کے ساتھ جیت رہے تھے، جہاں قانوناً ہمیں فارم 47 ملنا چاہیے تھا لیکن نتائج کو تبدیل کر دیا گیا۔ اس وقت تک ہمارے پاس صرف 3 حلقوں کے اصل فارم 47 موجود ہیں جو ہماری برتری کو ثابت کرتے ہیں۔”

بیرسٹر گوہر نے مقتدر حلقوں اور الیکشن کمیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ عوام کے ووٹ کے حق میں ہیرا پھیری کرنا اور شہریوں کو اپنی مرضی کا نمائندہ چننے سے روکنا ملک کے خلاف سازش ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جس دن گلگت بلتستان اسمبلی کے نومنتخب ارکان اپنے عہدوں کا حلف اٹھائیں گے، اس دن پی ٹی آئی پورے خطے میں بھرپور احتجاج کرے گی اور اسے ‘یومِ سیاہ’ کے طور پر منایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی ملک کے 70 فیصد عوام پی ٹی آئی کے بیانیے اور بانی چیئرمین کے ساتھ کھڑے ہیں، جسے بزورِ طاقت دبایا نہیں جا سکتا۔