چینی صدر شی جن پنگ کا دورہ پیانگ یانگ؛ شمالی کوریا کے ساتھ دوستی کو ‘ناقابلِ شکست’ قرار دے دیا

پیانگ یانگ: چینی صدر شی جن پنگ اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر شمالی کوریا پہنچ گئے ہیں، جہاں انہوں نے صدر کم جونگ اُن اور شمالی کوریا کی حکومت کے ساتھ بیجنگ کی حمایت کو ‘غیر متزلزل اور ناقابلِ شکست’ قرار دیا ہے۔ 2019 کے بعد پیانگ یانگ کے اس پہلے اعلیٰ سطح کے دورے کو عالمی منظر نامے، خاص طور پر یوکرین جنگ اور روس و شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے عسکری تعلقات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

پیانگ یانگ انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہنچنے پر چینی صدر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کا استقبال شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن اور ان کی اہلیہ ری سول جو نے کیا۔ ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے واضح کیا کہ عالمی حالات کی تبدیلی کے باوجود چین کی کمیونسٹ پارٹی کا شمالی کوریا کے ساتھ روایتی دوستی کو برقرار رکھنے کا مؤقف تبدیل نہیں ہوگا۔ انہوں نے خارجہ پالیسی، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دفاعی شعبوں میں ہر سطح پر تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شمالی کوریا اور واشنگٹن کے درمیان جوہری مذاکرات طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہیں۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں رہنما شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر متفق ہیں، تاہم کم جونگ اُن کی ہمشیرہ کم یو جونگ نے اس دعوے کو ‘جھوٹی معلومات’ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

کم یو جونگ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ شمالی کوریا کی جوہری طاقت ‘ناقابلِ واپسی’ (Irreversible) ہے اور واشنگٹن غیر حقیقت پسندانہ خواب دیکھنا چھوڑ دے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیانگ یانگ اپنے دفاعی جوہری نظام کو مزید مستحکم کرنے کی پالیسی پر سختی سے کاربند رہے گا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ روس کی یوکرین جنگ میں شمالی کوریا کی حمایت نے کم جونگ اُن کی پوزیشن کو عالمی سطح پر مضبوط کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق شی جن پنگ کا یہ دورہ نہ صرف شمالی کوریا پر چین کے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے بلکہ یہ روس کے بڑھتے ہوئے کردار کے مقابلے میں توازن قائم کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ اب بیجنگ شمالی کوریا کو ایک ‘ایٹمی ریاست’ کے طور پر تسلیم کرنے کے قریب تر دکھائی دیتا ہے، جہاں اس کی اولین ترجیح خطے میں استحکام اور امریکی مداخلت کو روکنا ہے۔