بیروت پر بمباری کے جواب میں ایران کی اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کی برسات

تل ابیب: مشرقِ وسطیٰ میں کچھ عرصہ قبل قائم ہونے والا نازک امن اور جنگ بندی کا معاہدہ مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔ اتوار کے روز اسرائیل کی جانب سے لبنانی دارالحکومت بیروت پر کی جانے والی شدید بمباری کے جواب میں، ایران نے اسرائیل کی حدود کے اندر یکے بعد دیگرے بیلسٹک میزائلوں کی برسات کر دی ہے۔ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایران نے براہِ راست اسرائیلی سرزمین پر اس نوعیت کا بڑا عسکری ایکشن لیا ہے۔

اسرائیلی دفاعی فورسز (IDF) نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کے بعد حیفا اور شمالی اسرائیل سمیت پورے ملک میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔ حملوں کی شدت کے پیشِ نظر اسرائیلی فوج کے ہوم فرنٹ کمانڈ نے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے پیر کے روز ملک بھر میں تمام اسکول اور تعلیمی ادارے بند رکھنے کا حکم دیا ہے اور شہریوں کو بنکرز و محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق، ایران نے پہلے حملے کے کچھ ہی دیر بعد میزائلوں کی دوسری لہر بھی فائر کی، تاہم ان کا فضائی دفاعی نظام خطرات کو گرانے کے لیے مسلسل متحرک ہے۔

ایران کے مقتدر عسکری ادارے ‘پاسدارانِ انقلاب’ (IRGC) نے حملوں کی باضابطہ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کی ایروسپیس فورس نے اسرائیل کے اسٹریٹجک ‘رامات ڈیوڈ ائیر بیس’ کو بیلسٹک میزائلوں سے کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کی قبولیت اس شرط پر تھی کہ تمام محاذوں پر فائرنگ فوری بند ہو جائے، لیکن امریکا اور اسرائیل نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا۔ یہ حملہ محض ایک وارننگ ہے، اگر اسرائیل نے دوبارہ جارحیت کی تو ہمارا اگلا جواب اس سے کہیں زیادہ وسیع اور ہولناک ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر کے سینیئر مشیر محسن رضائی نے تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پہلے ہی واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ لبنان پر کسی بھی قسم کا اسرائیلی حملہ یا جنگ بندی کی خلاف ورزی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ "حملہ آوروں کو آج رات ان کا کرارا جواب مل گیا ہے”۔

سینیئر ایرانی انٹیلی جنس ذرائع نے مزید دھمکی دی ہے کہ اگر اسرائیل نے اس جوابی کارروائی کے بعد ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی حماقت کی، تو خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے ایران کا اگلا اور بنیادی ہدف ہوں گے، جس سے خطے میں ایک نئی اور بے قابو علاقائی جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔