واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران تین ماہ سے جاری ہولناک جنگ کے خاتمے اور ایک تاریخی جوہری معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔ امریکی نیوز چینل ‘این بی سی’ (NBC) کو دیے گئے ایک تہلکہ خیز انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای چاہیں، تو وہ ان سے براہ راست میز پر بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر تہران کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا تو دونوں ممالک کے درمیان جاری تین ماہ پرانی جنگ کا فوری خاتمہ ہو جائے گا۔ معاہدے کی صورت میں امریکا اور ایران مل کر تہران کے انتہائی افزودہ یورینیم (Enriched Uranium) کو نکالنے اور اسے مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے کام کریں گے۔
تاہم، انہوں نے کڑی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ہم ایرانی فوجی صلاحیت کو اس حد تک کمزور کر دیں گے کہ ہماری افواج خود محفوظ طریقے سے ایران میں داخل ہو کر اس جوہری مواد کو قبضے میں لے کر تباہ کر سکیں۔ ہم ان کے ساتھ یا ان کے بغیر یہ کام کر کے رہیں گے، اور معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران پر بدترین فوجی کارروائی کی جائے گی۔
ایران کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملوں میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے قریبی ساتھیوں کی شہادت کے بعد، ایران کا کنٹرول سنبھالنے والی نئی قیادت پہلے کے مقابلے میں زیادہ عقل مند اور عملی (Pragmatic) نظر آتی ہے۔ نئے سپریم
لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ نوجوان ہیں اور میرے خیال میں زیادہ عقل مند ہیں۔ حالانکہ وہ حملوں میں کافی بری طرح زخمی بھی ہیں، اس کے باوجود وہ امریکا کے ساتھ معاملات پر سنجیدہ بات چیت کر رہے ہیں، جو ان کی بہادری کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ دونوں فریقین کے درمیان اب صرف چند اختلافی نکات باقی رہ گئے ہیں۔ ایران اس بات پر پہلے ہی راضی ہو چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، لیکن امریکی صدر کا مطالبہ ہے کہ معاہدے میں یہ شق بھی شامل کی جائے کہ ایران مستقبل میں کسی دوسرے ملک سے بھی جوہری ہتھیار خریدنے، حاصل کرنے یا کسی اور ذریعے سے منتقل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ ایران نے ابتدا میں اس پر اعتراض کیا تھا لیکن اب وہ مان گیا ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ حالیہ جنگ کے نتیجے میں ہم نے ایران کی فوجی صلاحیت کو ملیا میٹ کر دیا ہے اور اب ان کے پاس جنگ سے پہلے کے فوجی ذخائر کا صرف 21 سے 22 فیصد حصہ باقی بچا ہے۔ اس کے باوجود، انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں مذاکرات کے دوران دباؤ برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی خطے میں ہی تعینات رہیں گے۔
ایران پر کڑی نگرانی کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی ‘اسپیس فورس’ (Space Force) کے پاس خلا میں ایسے طاقتور کیمرے موجود ہیں جو ایران کے چپے چپے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کے بقول، "ہمارے کیمرے اتنے جدید ہیں کہ میں خلا سے زمین پر موجود ایرانی اہلکاروں کی وردی کے بیج پر لکھا ہوا نام بھی صاف پڑھ سکتا ہوں، اس لیے وہ ہم سے کچھ نہیں چھپا سکتے۔”

