لبنانی آرمی چیف پاکستان کے سرکاری دورے پر روانہ

بیروت: مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین کشیدگی اور اسرائیلی حملوں کے سائے میں ایک انتہائی اہم سفارتی اور عسکری پیش رفت سامنے آئی ہے۔ لبنانی فوج کے سربراہ (آرمی چیف) جنرل روڈولف ہیکل فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی دعوت پر پاکستان کے اہم سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔

برطانوی اور فرانسیسی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق یہ دورہ خطے کی سکیورٹی اور پاکستان کی زیرِ نگرانی جاری ‘ایران امریکا پسِ پردہ مذاکرات’ کے حوالے سے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

اگرچہ لبنانی فوج نے دورے کے دورانیے یا تفصیلی ایجنڈے کے بارے میں کوئی باضابطہ معلومات جاری نہیں کی ہیں، تاہم فرانسیسی خبر رساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ یہ دورہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری وسیع تر مذاکرات اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کا تسلسل ہے۔ لبنان اس وقت ان مذاکرات کا ایک نہایت اہم اور حساس ترین حصہ بن چکا ہے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کا اصرار ہے کہ امریکا کے ساتھ علاقائی جنگ کے خاتمے اور منجمد فنڈز کی واپسی کے لیے ہونے والے کسی بھی معاہدے میں لبنان اور وہاں جاری جنگ بندی کو لازمی شامل کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب، پاکستان عسکری روابط اور پیشہ ورانہ تربیت کے پرانے فریم ورک کو استعمال کرتے ہوئے دونوں خطوں کے مابین امن پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب لبنانی آرمی چیف پاکستان کا رخ کر رہے ہیں، لبنان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان شدید اختلافات بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ گزشتہ روز امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لبنانی صدر جوزف عون نے ایران کی حکمتِ عملی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران، امریکا کے ساتھ اپنے مذاکرات میں لبنان کو سودے بازی کے کارڈ (Bargaining Chip) کے طور پر استعمال کر رہا ہے جو ہمیں کسی صورت قبول نہیں ہے۔ یہ تمہارا نہیں بلکہ ہمارا ملک ہے اور اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ ایران کو لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔

صدر جوزف عون نے لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کو بھی کڑے لفظوں میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو بھی اب سمجھنی ہوگی کہ ریاستِ لبنان کے مفاد کے خلاف کوئی اقدام قبول نہیں کیا جائے گا، اور اب بیٹھ کر باقاعدہ بات چیت کرنے کے سوا ان کے پاس کوئی دوسرا حل نہیں بچا۔

ادھر پاکستانی حکام کے مطابق لبنانی آرمی چیف اپنے دورہ پاکستان کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت اعلیٰ عسکری اور حکومتی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

ان ملاقاتوں میں جہاں خطے کی مجموعی سکیورٹی، غزہ و لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور جنگ بندی پر بات ہوگی، وہی پاک لبنان دفاعی تعاون، فوجی تربیت اور پیشہ ورانہ روابط کو مزید وسعت دینے کے لیے اہم مفاہمت متوقع ہے۔