ٹرمپ انتظامیہ کی جاسوسی کا خدشہ؛ پینٹاگون نے اسرائیل کے خطرے کی درجہ بندی بلند ترین سطح پر کر دی

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے اندر یہ خدشات تیزی سے سر اٹھا رہے ہیں کہ اسرائیل نے امریکی حکام اور حساس اداروں کے خلاف اپنی جاسوسی اور نگرانی کی سرگرمیاں غیر معمولی حد تک بڑھا دی ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے ‘این بی سی’ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، پینٹاگون نے اسرائیل کے لیے اپنی کاؤنٹر انٹیلیجنس خطرے کی درجہ بندی (Counterintelligence Threat Level) کو ممکنہ طور پر بلند ترین اور انتہائی سنگین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی (DIA) کی جانب سے تیار کردہ ایک حالیہ تجزیاتی رپورٹ میں 7 صفحات پر مشتمل ایک اہم دستاویز بھی شامل ہے۔ اس دستاویز میں ایسے مخصوص واقعات اور شواہد کی تفصیلات دی گئی ہیں جنہوں نے امریکی انٹیلیجنس اداروں کو چوکنا کیا ہے۔

رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اسرائیل خاص طور پر سینئر امریکی حکام کی نگرانی کر رہا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات، بالخصوص ایران اور منجمد فنڈز کے معاملے پر صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے اندرونی فیصلوں اور خفیہ مشاورت سے پہلے سے آگاہی حاصل کی جا سکے۔

یہ سنسنی خیز پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے درمیان ایران کے ساتھ جنگ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے پسِ پردہ شدید اختلافات اور سفارتی کشیدگی رپورٹ کی جا رہی ہے۔

امریکی حکام کا ماننا ہے کہ اسرائیل اس بات کو جاننے کے لیے بے چین ہے کہ آیا صدر ٹرمپ ایران کے خلاف کسی بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کر رہے ہیں یا پھر پاکستان جیسے ثالثوں کے ذریعے جنگ کے خاتمے اور کسی سفارتی و مذاکراتی حل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

دوسری جانب واشنگٹن میں موجود اسرائیلی سفارت خانے نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیا ہے۔ اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل امریکی اداروں یا حکومتی اہلکاروں کی کسی قسم کی انٹیلیجنس جمع نہیں کرتا۔ ہماری تمام انٹیلیجنس سرگرمیاں صرف ہمارے دشمنوں کے خلاف ہیں، اتحادیوں کے خلاف نہیں۔ اس کے برعکس کوئی بھی دعویٰ یا تو غلط معلومات پر مبنی ہے یا پھر اس کے پیچھے سیاسی مقاصد ہیں۔

اس حساس معاملے پر پینٹاگون نے باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے اس رپورٹ کی صحت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا ہے۔