ایران کے پاس اب صرف 22 فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں؛ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے میزائل ذخائر میں غیر معمولی کمی آ چکی ہے اور اب اس کے پاس صرف 21 سے 22 فیصد میزائل باقی رہ گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کی دفاعی صلاحیت میں اس بڑی کمی کے بعد بالآخر اسے امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کے سوا کسی اور راستے کا انتخاب کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔

‘این بی سی نیوز’ کو دیے گئے انٹرویو اور وسکونسن میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ جنگوں اور بڑے تنازعات کے حل میں وقت لگتا ہے، یہ کام فوری نہیں ہوتے۔ ایران وہ اقدامات کرنے پر مجبور ہوگا جن کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا، کیونکہ وہ اب معاہدے کے سوا کوئی چارہ نہیں رکھتا۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران نے تاحال جنگ بندی کے لیے کسی ڈیل پر اتفاق اس لیے نہیں کیا کیونکہ وہ خود کو ایک "طاقتور اور غیور” قوم سمجھتا ہے، تاہم ان کی انتظامیہ کو ایران کے معاملے پر زبردست سفارتی کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایک بار پھر اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اس وقت ایٹمی ہتھیار بنانے یا رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور امریکا اپنی اس پالیسی پر سختی سے قائم ہے۔

آبنائے ہرمز کی حساس صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس اہم بحری گزرگاہ سے بڑی تعداد میں آئل ٹینکرز گزر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آبنائے ہرمز کا بحران جلد حل ہو جائے گا اور جیسے ہی صورتحال معمول پر آئے گی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے تیل کی قیمتیں پہلے سے بھی کم سطح پر آ جائیں۔

صدر ٹرمپ نے خارجہ پالیسی کے ساتھ ساتھ اپنی مقامی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کے دور میں امریکا میں نئی فیکٹریاں قائم ہو رہی ہیں اور روزگار کے بے شمار نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، جو امریکی معیشت کی مضبوطی کا ثبوت ہیں۔