فتنہ الخوارج کا مکروہ چہرہ بے نقاب؛ گرفتار دہشتگرد عمر دین عرف جذبہ کا سنسنی خیز اعترافی ویڈیو بیان، منشیات، غیراخلاقی سرگرمیوں اور افغان فنڈنگ کے ہوشربا انکشافات
اسلام آباد: پاکستانی سکیورٹی فورسز کی ایک بڑی کامیابی کے بعد گرفتار ہونے والے فتنہ الخوارج (کالعدم تحریک طالبان پاکستان) کے اہم خارجی دہشتگرد عمر دین عرف جذبہ کا سنسنی خیز اعترافی ویڈیو بیان سامنے آیا ہے۔
دہشتگرد کے اس بیان نے فتنہ الخوارج کے نام نہاد نظریاتی اور گمراہ کن بیانیے کا نہ صرف پول کھول دیا ہے بلکہ تنظیم کے اندر جاری غیر اخلاقی، مالی اور عسکری جرائم کو بھی پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
سکیورٹی حکام کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو بیان میں خارجی عمر دین نے انکشاف کیا کہ اس نے 12 جنوری 2025ء کو اپنے والد سے شدید لڑائی اور گھریلو ناچاقی کے بعد فتنہ الخوارج میں شمولیت اختیار کی تھی۔
اس نے اعتراف کیا کہ ہر خوارجی کمانڈر کے ساتھ 60 سے 70 افغان شہری موجود ہیں اور میں نے خود افغانستان جا کر راکٹ لانچر سمیت دیگر بھاری و جدید اسلحہ چلانے کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ خوارج کو تمام تر مالی وسائل، فنڈز اور جدید اسلحہ افغانستان میں موجود خوارجی کمانڈروں سے حاصل ہوتا ہے، جسے بعد میں پاکستان اسمگل کیا جاتا ہے۔
دہشتگرد عمر دین نے مینی فیسٹو کا پردہ چاک کرتے ہوئے مانا کہ اس کا نیٹ ورک پاکستان میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر متعدد ہلاکت خیز حملوں میں براہِ راست ملوث رہا ہے۔
اس نے اعتراف کیا کہ ان کا یہ گروہ شادی خیل بیس پر حملے اور کوٹہ خواہ روڈ پر ہونے والے اس بزدلانہ بم دھماکے کا ذمہ دار تھا، جس میں ماہِ رمضان کے دوران 7 کلمہ گو پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔
ملزم نے فتنہ الخوارج کے مراکز (کیمپوں) کے اندرونی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے انتہائی گھناؤنے انکشافات کیے۔ اس نے بتایا کہ جہاد اور شریعت کے نفاذ کا راگ الاپنے والے خوارجی کمانڈرز اور جنگجو خود شدید قسم کے منشیات کے عادی ہیں اور مراکز کے اندر بدترین غیر اخلاقی و جنسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
عمر دین کے مطابق خوارجی کمانڈرز اپنے ہی مراکز میں پسند کے نوجوان لڑکوں کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ تنظیم اپنے مالی اخراجات پورے کرنے کے لیے بھتہ خوری، گاڑیاں چھیننے اور اغوا برائے تاوان جیسے خالص مجرمانہ دھندوں میں ملوث ہے۔
عمر دین عرف جذبہ نے ویڈیو کے آخر میں پاکستانی نوجوانوں سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کی کہ وہ خوارج کے شریعت اور جہاد کے جھوٹے دعووں اور پروپیگنڈے سے گمراہ نہ ہوں، کیونکہ ان کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔
دفاعی و سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرفتار خارجی کا یہ اعترافی بیان اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ یہ دہشتگرد گروہ نظریاتی نہیں بلکہ ایک مجرمانہ مافیا ہے، جو نوجوانوں کو بے راہ روی کا شکار کر کے ملک میں بدامنی پھیلانے کے مذموم عزائم پر کام کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ تمام دعوے سکیورٹی فورسز کی تفتیش اور ملزم کے اپنے بیان پر مبنی ہیں۔

