پاکستان نے گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے خلاف بھارت کے گمراہ کن بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا
اسلام آباد: پاکستان نے گلگت بلتستان میں ہونے والے آئندہ انتخابات کے حوالے سے بھارتی حکومت کے بے بنیاد، لغو اور جارحانہ بیانات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ دفترِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ گلگت بلتستان سے متعلق نئی دہلی کے دعوے زمینی حقائق کو مسخ کرنے اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش ہیں۔
ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے اپنے ایک تند و تیز بیان میں کہا کہ بھارت جھوٹی کہانیاں گڑھنے اور گمراہ کن پروپیگنڈے کے فروغ میں عالمی شہرت رکھتا ہے۔ انہوں نے دوٹکوک انداز میں کہا کہ پاکستان ان بھارتی بیانات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور انہیں کسی قسم کی اہمیت کا حامل نہیں سمجھتا۔
ترجمان نے پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک متنازع علاقہ ہے۔ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کے ایجنڈے پر موجود طویل ترین غیر حل شدہ تنازع ہے، جس کی بنیاد 1947ء میں بھارت کے ریاست جموں و کشمیر پر جبری اور غیر قانونی قبضے سے پڑی۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں زور دیا گیا ہے کہ اس دیرینہ تنازع کے منصفانہ اور پائیدار حل کا واحد راستہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر مکمل عملدرآمد میں پنہاں ہے۔ ان قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری (استصوابِ رائے) کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا بنیادی حقِ خودارادیت ملنا چاہیے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے گلگت بلتستان کے انتخابی عمل پر اچھالا جانے والا کیچڑ دراصل مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ انہوں نے مقبوضہ وادی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی افواج کو کالے قوانین کے تحت حاصل حاصل استثنیٰ (Impunity) دراصل ریاستی جبر کی بدترین شکل ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے بھارت سے درج ذیل اقدامات کا پرزور مطالبہ کیا ہے:
- بھارت تمام غیر قانونی طور پر زیرِ قبضہ کشمیری علاقوں سے اپنی افواج کا فوری انخلا کرے۔
- 5 اگست 2019ء کے بعد مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو فی الفور واپس لیا جائے۔
- آزاد بین الاقوامی مبصرین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا کو مقبوضہ وادی کی زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بلا روک ٹوک رسائی دی جائے۔

