اسلام آباد: پاکستان میں امریکی مشن نے امریکا کی آزادی کی 250 سالہ تاریخی سالگرہ (سیمی کوئین سینٹینیئل) کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں ایک پروقار استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا۔
اس اہم سنگِ میل پر آزادی، وقار اور حقِ خود ارادیت کے اُن آفاقی اصولوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے گزشتہ ڈھائی صدیوں کے دوران دنیا بھر کی تحریکوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ تقریب میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں امریکی مشن کی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے گزشتہ دو برسوں کے دوران امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں آنے والی غیر معمولی اسٹریٹجک تبدیلی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ احترام، باہمی مفادات اور سلامتی و خوشحالی کے مشترکہ نصب العین پر مبنی دوطرفہ تعلقات کو حقیقی اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک پروان چڑھانے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بہادری اور نتائج پر مرکوز قیادت کا کلیدی کردار رہا ہے۔”
ناظم الامور نے 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان پہلی بار اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات کا اسلام آباد میں انعقاد ہونے پر پاکستان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کے باعث دو روایتی مخالف ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان کو ایک منفرد سفارتی حیثیت حاصل ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں تقریباً دو دہائیوں بعد لاہور کے تاریخی بسنت پتنگ میلے کی بحالی میں اپنی شرکت اور اندرون سندھ کے دوروں کا ذکر کرتے ہوئے عوامی روابط کی تعریف کی۔ نیٹلی بیکر نے اسپورٹس ڈپلومیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کا اہم کردار ہے کیونکہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں کھیلے جانے والے میچوں کی فٹبالز پاکستان میں تیار کی جا رہی ہیں، جو پاکستانی ہنرمندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی حکومت، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عوام کو یومِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی تاریخ امید، عزم اور روشن مستقبل کی ایک منفرد داستان ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکا امن اور خوشحالی کے سفر پر گامزن ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو سراہتے ہوئے انہیں ’’امن کے داعی‘‘ کے طور پر یاد کیا اور کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے ان کی کوششیں تاریخ کا حصہ رہیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ایک مخلص ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے اور اس اعتماد پر وہ دونوں ممالک کے شکر گزار ہیں۔
شہباز شریف نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد امریکا ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے پاکستان کو تسلیم کیا۔ امریکا نے پاکستان میں سبز انقلاب، تربیلا ڈیم اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں اہم کردار ادا کیا۔ آج دونوں ممالک کے درمیان سب سے مضبوط رشتہ 10 لاکھ پاکستانی نژاد امریکیوں اور امریکا کے ممتاز ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹروں کی صورت میں موجود ہے، جبکہ 80 بڑی امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
تقریب کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا کہ جیسے ہی امریکا اپنے "سنہری دور” میں داخل ہو رہا ہے، پاک امریکا شراکت داری کا سب سے اہم اور بہترین باب اب شروع ہونے جا رہا ہے۔

