دبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بدلتے دور کے تقاضوں اور جدید ٹیکنالوجی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بین الاقوامی کرکٹ کے قوانین میں کئی بڑی اور انقلابی تبدیلیوں کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ بھارت کے شہر احمد آباد میں منعقدہ آئی سی سی بورڈ اور چیف ایگزیکٹو کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 کرکٹ کو مزید بہتر بنانے کے لیے متعدد اہم فیصلوں کا باضابطہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ میں خراب روشنی (Bad Light) کے باعث میچز متاثر ہونے اور اوورز ضائع ہونے کے دیرینہ مسئلے کا حل نکال لیا گیا ہے۔ نئے قانون کے تحت، اگر کسی ٹیسٹ میچ کے دوران روشنی کے مسائل متوقع ہوں، تو دونوں ٹیموں کی پیشگی باہمی رضامندی سے میچ کا آغاز روایتی سرخ گیند کے بجائے گلابی (پنک) گیند سے کیا جا سکے گا۔
اب تک گلابی گیند صرف ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچوں میں استعمال ہوتی تھی، تاہم اب یہ عام ٹیسٹ میں بھی فلڈ لائٹس کے نیچے کھیل جاری رکھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ آئی سی سی کے مطابق، اس کے ضوابط پر مزید کام جاری ہے، اس لیے 4 جون سے شروع ہونے والی انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی ٹیسٹ سیریز میں فوری طور پر اس کا اطلاق متوقع نہیں ہے۔
ون ڈے اور ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے ایک اور دلچسپ تبدیلی کی منظوری دی گئی ہے، جس کے تحت اب ہیڈ کوچز یا نامزد سپورٹ اسٹاف کو ڈرنکس بریک کے دوران میدان میں جا کر کھلاڑیوں سے براہِ راست حکمتِ عملی پر مشاورت کرنے کی اجازت ہوگی۔
اس سے قبل بین الاقوامی کرکٹ میں یہ پیغامات صرف اضافی کھلاڑی (واٹر بوائے) کے ذریعے پہنچائے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ، ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ میں اب اننگز کے درمیان وقفہ (Innings Break) مستقل طور پر 15 منٹ مقرر کر دیا گیا ہے، اور بلے بازوں کو وقت پر دوبارہ کریز سنبھالنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
آئی سی سی نے لیگ سائیڈ وائیڈ کے عارضی قانون کو اب مستقل بنیادوں پر نافذ کر دیا ہے۔ اس قانون کے تحت، اگر بلے باز شاٹ کھیلنے کے لیے کریز میں اپنی پوزیشن تبدیل (Move) کر رہا ہو، تو امپائرز کو وائیڈ دینے کے لیے نئی گائیڈ لائنز کے استعمال کی مستقل اجازت ہوگی۔
مزید برآں، مشکوک یا مشتبہ بولنگ ایکشن کی رپورٹنگ کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے میچ آفیشلز اور امپائرز کو ہاک آئی (Hawk-Eye) ڈیٹا تک رسائی دی جائے گی تاکہ وہ میدان ہی میں درست فیصلہ کر سکیں۔

