لبنان پر اسرائیلی حملے جاری رہے تو امریکا سے مذاکرات روک دیں گے؛ ایرانی اسپیکر باقر قالیباف

تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششوں کے درمیان تہران کی جانب سے ایک بار پھر انتہائی سخت موقف سامنے آیا ہے۔ ایران کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر اپنے حملے جاری رکھے تو ایران امریکا کے ساتھ جاری تمام مذاکرات فوری طور پر روک دے گا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے اپنے ایک اہم بیان میں واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ کوئی بھی ڈیل یکطرفہ شرائط پر نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے قومی حقوق اور عوامی مفادات کے مکمل تحفظ کو یقینی بنائے بغیر امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں کرے گا۔ اگر اسرائیلی جارحیت برقرار رہی تو سفارت کاری کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران ایران کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ طے پا جائے گا۔

سفارتی محاذ کے ساتھ ساتھ ایرانی عسکری قیادت نے بھی لہجہ سخت کر لیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل اسماعیل قانی نے اسرائیل اور امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں ‘محورِ مزاحمت’ (Axis of Resistance) کو شدید ردعمل پر مجبور کر رہی ہیں۔

انہوں نے بحری تجارتی راستوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ محورِ مزاحمت بین الاقوامی تجارتی گزرگاہ ‘باب المندب’ (Bab al-Mandab) کی بحری ٹریفک کے ساتھ بالکل وہی کچھ کر سکتا ہے جو صورتحال اس وقت ‘آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) کی ہے۔

ادھر ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بھی صیہونی حکومت اور خطے میں موجود امریکی افواج کو سنگین نتائج بھگتنے کی وارننگ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لبنان پر حملے فی الفور بند نہ ہوئے تو تہران فوجی جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کوئی کھوکھلی دھمکی نہیں ہے، بلکہ خطے میں موجود امریکی افواج کو اس جارحیت کے براہِ راست نتائج بھگتنا ہوں گے۔