دعا ہے فیلڈ مارشل کی امن کوششیں کامیاب ہوں؛ بلاول بھٹو کا گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب

اسکردو: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے انتخابی دورے کے دوران اسکردو اور دیگر اضلاع میں بڑے عوامی اجتماعات سے خطاب کیا۔ انہوں نے عالمی حالات، علاقائی دفاع اور گلگت بلتستان کے دیرینہ مسائل پر پارٹی کا موقف پیش کرتے ہوئے 7 جون کے انتخابات میں ‘تیر’ پر مہر لگانے کی اپیل کی۔

بلاول بھٹو زرداری نے ایران میں اسکول پر میزائل حملے اور بچوں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی قوانین کو پامال کرتے ہوئے آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کیا گیا، جس کی وجہ سے خطے میں سوگ کا ماحول ہے۔

انہوں نے امن کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہو جائیں، ان کوششوں کا کامیاب ہونا خطے اور دنیا کے لیے ناگزیر ہے کیونکہ ایران جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی بحران کا بوجھ پوری دنیا کے عوام اٹھا رہے ہیں۔

چیئرمین پی پی پی نے گلگت بلتستان کے عوام کے لیے "حقِ ملکیت” کا نعرہ بلند کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو یہ ماننا پڑے گا کہ یہاں کے وسائل پر پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے۔ انہوں نے سندھ کے تھرکول منصوبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں مقامی لوگوں کو نوکریاں اور بجلی دی گئی، یہی ماڈل گلگت بلتستان میں بھی اپنایا جائے گا۔ انہوں نے طنزاً کہا کہ یہاں ایک ‘پروفیسر’ 100 میگا واٹ بجلی کو داہنے ہاتھ کا کام قرار دے رہے ہیں، اگر ایسا ہے تو انہوں نے اب تک کچھ کیا کیوں نہیں؟

بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو نے دیا اور میزائل ٹیکنالوجی بے نظیر بھٹو نے فراہم کی۔ انہوں نے سابق صدر آصف علی زرداری کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سلالہ واقعے کے بعد ملک سے غیر ملکی فوجی اڈے ختم کرائے تھے۔ انہوں نے امیروں کو مزید امیر کرنے والی معاشی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صرف پیپلز پارٹی ہی غریب دوست سیاست کرتی ہے۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام  کے حوالے سے بلاول نے کہا کہ یہ غریبوں کا واحد سہارا ہے اور اس کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے بجٹ میں بی آئی ایس پی فنڈز میں اضافے کا مطالبہ بھی کیا۔

سندھ میں سیلاب متاثرین کے لیے بنائے جانے والے 20 لاکھ گھروں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے وعدہ کیا کہ گلگت بلتستان میں بھی خواتین کے نام پر پکے گھر بنا کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے کراچی کے ہسپتالوں (NICVD وغیرہ) کی مثال دی اور کہا کہ گلگت بلتستان میں بھی مفت علاج کے لیے ہسپتالوں کا جال بچھایا جائے گا۔

انہوں نے اپیل کی کہ 7 جون کو عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں تاکہ گلگت بلتستان کو 18 ویں ترمیم کے تحت مکمل اختیارات اور عوام کو ان کا حقِ حاکمیت و ملکیت دلایا جا سکے۔