اسلام آباد: اقوامِ متحدہ (UN) نے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے دنیا بھر کے لیے ایک انتہائی تشویشناک خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ رواں سال جون سے اگست کے دوران خطرناک ترین ویدر سسٹم "ایل نینو” (El Niño) کے بننے کا شدید خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں گرمی کی شدت اور غیر معمولی بارشوں کا نیا ریکارڈ قائم ہو سکتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، اس وقت عالمی سمندروں کے درجہ حرارت میں غیر معمولی طور پر 6 درجے تک کا ہولناک اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔
ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس غیر معمولی حدت کے باعث اب 90 فیصد خدشہ ہے کہ ‘ایل نینو’ کا موسمیاتی نظام مکمل طور پر سرگرم ہو جائے گا۔ اس سسٹم کے فعال ہونے سے دنیا بھر کے درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوگا اور کئی خطے شدید خشک سالی جبکہ دیگر غیر معمولی و تباہ کن بارشوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کو ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اپنے ایک خصوصی بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ایل نینو اب ہماری دہلیز پر آ چکا ہے۔ دنیا کو اس موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے اتنی ہی شدت کے ساتھ ٹھوس اور فوری اقدامات کرنا ہوں گے جتنی شدت کا یہ بحران خود ہے۔ اب سستی کی کوئی گنجائش نہیں بچی۔
سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ اگر دنیا کو اس ماحولیاتی تباہی کے دور رس اثرات سے بچنا ہے تو روایتی ایندھن (فوسل فیولز) پر انحصار فوری طور پر ترک کرنا ہوگا۔ انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ تیزی کے ساتھ ری نیوایبل انرجی (شمس و ہوا سے پیدا ہونے والی ماحول دوست بجلی) کی طرف منتقل ہوں۔
ماہرینِ موسمیات کا اندازہ ہے کہ اگر یہ ویدر سسٹم جون میں شروع ہوتا ہے، تو یہ نومبر تک برقرار رہ سکتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ رواں سال کے آخری چھ مہینے عالمی موسم اور زراعت کے لیے انتہائی سخت اور چیلنجنگ ثابت ہو سکتے ہیں۔

