لاہور: پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے حوالے سے ایک اور بڑی اور خوش آئند پیش رفت سامنے آئی ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان کو ایک اور میگا عالمی ایونٹ یعنی "آئی سی سی ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2028” کی میزبانی دینے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔
احمد آباد میں منعقدہ آئی سی سی بورڈ کے سہ ماہی اجلاس میں خواتین کرکٹ کے مستقبل اور گورننس کے حوالے سے کئی اہم فیصلے کیے گئے، جن میں پاکستان کو عالمی کپ کی میزبانی دینے سمیت ورلڈ کپ کا کوالیفکیشن فارمیٹ بھی شامل ہے۔
پاکستان میں ہونے والے اس میگا ایونٹ میں مجموعی طور پر 12 ٹیمیں ایکشن میں نظر آئیں گی، جس کے کوالیفکیشن سسٹم کی توثیق کر دی گئی ہے۔ فارمیٹ کے تحت 10 ٹیمیں ٹورنامنٹ کے لیے براہِ راست کوالیفائی کریں گی، جن میں میزبان ملک ہونے کے ناطے پاکستان، انگلینڈ میں ہونے والے رواں ورلڈ کپ (2026) کی ٹاپ 8 ٹیمیں اور 6 جولائی 2026 تک آئی سی سی رینکنگ میں سب سے اوپر موجود اگلی ٹیم شامل ہوگی۔ باقی 2 ٹیموں کا فیصلہ گلوبل اور ریجنل کوالیفائرز کے ذریعے ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق، آئی سی سی نے روایتی پاک بھارت سیاسی تناؤ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ‘ہائبرڈ ماڈل’ کے تحت بھارتی ٹیم کے تمام میچز کسی نیوٹرل ملک میں کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹورنامنٹ کی حتمی تفصیلات اور ریجنل الاٹمنٹ جولائی میں ہونے والے اگلے آئی سی سی اجلاس میں طے کی جائیں گی۔
اجلاس میں سری لنکا میں منعقد ہونے والی تاریخ کی پہلی ویمنز چیمپئنز ٹرافی کے شیڈول میں تبدیلی کی بھی منظوری دی گئی۔ 8 ٹیموں پر مشتمل یہ ٹی20 ٹورنامنٹ اب جون اور جولائی کے بجائے 14 سے 28 فروری 2027 کے درمیان کھیلا جائے گا۔
شیڈول میں تبدیلی کی کوئی باقاعدہ وجہ نہیں بتائی گئی، تاہم یہ تاریخیں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے مابین مجوزہ وائٹ بال سیریز سے جزوی طور پر متصادم ہو سکتی ہیں جس پر آسٹریلوی بورڈ غور کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ، ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی کے نئے فارمیٹ کی منظوری بھی دی گئی ہے جس میں اب 10 ٹیمیں (5 فل ممبرز اور 5 ایسوسی ایٹس) حصہ لیں گی۔
آئی سی سی نے گورننس اور انتظامی امور میں سنگین خلاف ورزیوں پر سخت ایکشن لیتے ہوئے کرکٹ کینیڈا کی رکنیت فوری طور پر معطل کر دی ہے۔ تاہم، کینیڈین کرکٹرز کے لیے ریلیف کی بات یہ ہے کہ قومی ٹیمیں معطلی کے باوجود آئی سی سی ایونٹس میں شرکت کی اہل رہیں گی اور ان کے مالیاتی پروگرام ایک مخصوص نگرانی کے نظام کے تحت جاری رکھے جائیں گے۔
اجلاس میں بنگلہ دیش اور سری لنکا کے بورڈز میں ممکنہ حکومتی مداخلت کے معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

