ایران میں شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین اور 3 روزہ الوداعی تقریبات کی تیاریاں شروع
تہران: اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام نے گزشتہ دنوں امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی الوداعی تقریبات اور تدفین کے حوالے سے بڑے پیمانے پر تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان کی آخری رسومات کے لیے تہران، قم اور مشہد کو مرکزی میزبان شہروں کے طور پر حتمی شکل دی گئی ہے۔
تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ تدفین سے قبل 3 روز تک خصوصی عوامی و مذہبی تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جس میں عوام کو اپنے مرحوم رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع ملے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر کے جنازے کی تیاری کر رہے ہیں۔ صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سے دو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کی شرکت کے مطابق انتظامات کیے جا رہے ہیں جو جدید تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہو سکتا ہے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ تہران میں الوداعی جلوس اور نمازِ جنازہ کا پروگرام کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس میں پاکستان، بھارت، افغانستان، بنگلہ دیش اور کشمیر سمیت پڑوسی ممالک سے بھی لاکھوں سوگواروں کی شرکت متوقع ہے۔ ان انتظامات کی مجموعی نگرانی ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) میونسپل حکام کے ساتھ مل کر کر رہی ہے۔
نائب میئر کے مطابق، تہران کے بعد الوداعی تقریبات قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی وصیت اور خواہش کے مطابق ان کی تدفین مشہد مقدس میں حضرت امام رضا علیہ السلام کے روضہ مبارک کے قریب کیے جانے کا قوی امکان ہے۔ حکام کے مطابق یہ الوداعی توسیعی تقریبات ذوالحجہ کے آخری ایام یا محرم الحرام کے آغاز میں منعقد ہوں گی۔
یاد رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای فروری میں ایران پر ہونے والے اچانک امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں میں اپنے خاندان کے چند قریبی ارکان اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز سمیت شہید ہو گئے تھے۔
اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا جس سے 165 افراد شہید ہوئے تھے، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں پر جوابی حملے کیے تھے۔
بعد ازاں، اپریل میں پاکستان کی ثالثی کے باعث امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد حملے روک دیے گئے تھے تاہم آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول اور امریکی ناکہ بندی اب بھی برقرار ہے۔

