عوام کے لیے بڑا ریلیف؛ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 22، 22 روپے جبکہ مٹی کے تیل میں 41 روپے سے زائد کی بھاری کمی
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے عید الفطر کے تیسرے دن ملک بھر کے مہنگائی سے ستائے عوام کو بڑا ریلیف فراہم کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یکمشت بھاری کمی کا اعلان کر دیا ہے۔
وزیر اعظم ہاؤس اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 22، 22 روپے فی لیٹر جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 41 روپے سے زائد کی بڑی کمی کی گئی ہے، جس کا اطلاق رات 12 بجے سے ہو گیا ہے۔
پیٹرول: قیمت میں 22 روپے فی لیٹر کمی کے بعد نئی قیمت 381 روپے 78 پیسے مقرر کی گئی ہے (گزشتہ ہفتے قیمت 403 روپے 78 پیسے تھی)۔
ڈیزل: ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی 22 روپے فی لیٹر سستا کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 380 روپے 78 پیسے ہو گئی ہے (گزشتہ ہفتے قیمت 402 روپے 78 پیسے تھی)۔
مٹی کا تیل: غریب طبقے کے لیے مٹی کے تیل میں ریکارڈ 41 روپے 44 پیسے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے، جس سے اس کی قیمت 313 روپے 44 پیسے سے کم ہو کر اب 272 روپے فی لیٹر پر آ گئی ہے۔
ذرائع پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق قیمتوں میں غیر معمولی توازن برقرار رکھنے کے لیے لیوی کی شرح میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں:
پیٹرول پر لیوی: اس میں 10 روپے 83 پیسے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد پیٹرول پر لیوی 102.17 روپے سے کم ہو کر 91.34 روپے رہ گئی ہے۔
ڈیزل پر لیوی: ڈیزل پر لیوی میں 10 روپے 93 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ 58 روپے سے بڑھ کر 68.93 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
مٹی کے تیل پر عائد لیوی کو بغیر کسی تبدیلی کے 20 روپے 36 پیسے پر برقرار رکھا گیا ہے۔
قیمتوں میں کمی پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کو ریلیف دینا ان کی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ جیسے ہی ملکی معیشت میں گنجائش پیدا ہوگی، اس کا فائدہ براہِ راست عوام تک پہنچایا جائے گا اور آج اس وعدے پر ہو بہو عمل کر دیا گیا ہے۔ پچھلے ہفتے بھی ہم نے قیمتوں میں 6 روپے کی کمی کی تھی اور مسلسل دوسرے ہفتے یہ بڑا ریلیف دیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ حکومت نے سخت ترین حالات اور عالمی منڈی کے بحران کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ، گڈز ٹرانسپورٹ، موٹر سائیکل اور رکشہ چلانے والوں کے لیے فیول پر خصوصی سبسڈی فراہم کی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ جب خطے کے دیگر ممالک میں پیٹرول کے حصول کے لیے لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں، پاکستان میں حکومت کے بروقت اقدامات اور 130 روپے سے زائد کی حکومتی سبسڈی کی بدولت پٹرولیم مصنوعات بلا تعطل دستیاب رہیں۔
سیاسی و معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مئی کے مہینے میں قیمتوں میں یہ مسلسل تیسری کمی ہے (15 مئی کو 5 روپے اور پچھلے ہفتے 6 روپے کی کمی کی گئی تھی)، جس سے اب ملک میں مال برداری کے اخراجات اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں واضح کمی متوقع ہے، جس کا براہِ راست فائدہ عام آدمی کو پہنچے گا۔

