یومِ تکبیر پر سیاسی قائدین کا ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کو خراج تحسین

لاہور: پاکستان کو دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بنے 28 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ 28 مئی 1998ء کو بلوچستان کے ضلع چاغی میں کیے گئے کامیاب جوہری تجربات کی یاد میں آج ملک بھر میں "28 واں یومِ تکبیر” ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔

اس تاریخی اور یادگار موقع پر ملک کے چاروں صوبوں کی سیاسی قیادت اور مقتدر رہنماؤں نے الگ الگ پیغامات کے ذریعے قوم کو مبارکباد پیش کی ہے اور ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے والے اسلاف کو سلام پیش کیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے یومِ تکبیر پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ یہ دن صرف پاکستانی قوم کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام کے لیے باعثِ فخر ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کو دنیائے اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بنانے والے میاں محمد نواز شریف اور ہمارے عظیم ایٹمی سائنسدانوں کو سلام پیش کرتی ہوں۔ مجھے اس عظیم اور دلیر شخص کی بیٹی ہونے پر فخر ہے جس نے عالمی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے ملکی بقا کا فیصلہ کیا۔ قوم آج بھی مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے ان جرات مندانہ فیصلوں کی معترف ہے۔

مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے جس طرح پاکستان کو دفاعی لحاظ سے مضبوط کیا، اب اسے معاشی طور پر ناقابلِ تسخیر بنانا ہمارا اولین مشن ہے۔ آج ہمیں اتحاد، یکجہتی، محنت اور رواداری کے عزم کا اعادہ کرنا ہوگا۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پوری قوم کو یومِ تکبیر کی دلی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ 28 مئی ہمیں عالمی طاقتوں کے سامنے نہ جھکنے کا دلیرانہ فیصلہ یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے بلوچستان کے تاریخی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو جب بھی ضرورت پڑی، بلوچستان کے غیور عوام نے اپنا سینہ وطن کے دفاع میں پیش کیا۔

چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے ایٹمی دھماکے ملکی عزم کی علامت ہیں۔ اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ سردار اختر مینگل کا چاغی آمد پر وزیرِ اعظم کی گاڑی خود ڈرائیو کرنا ہماری تاریخ کا ایک یادگار اور اہم باب ہے۔

گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اپنے پیغامات میں قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

سردار سلیم حیدر کا کہنا تھا کہ شہید بھٹو کے وژن، دلیری اور لازوال محبت کی وجہ سے ہی ہم ایٹم بم بنانے کے قابل ہوئے، جبکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کے ساتھی سائنسدانوں نے انتہائی مشکل حالات میں اس کی بنیاد رکھی۔

فیصل کریم کنڈی نے بھٹو شہید کے تاریخی جملے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عزم کیا تھا کہ ہم گھاس کھائیں گے مگر ایٹمی پروگرام پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعد میں محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے ملک کو جدید میزائل ٹیکنالوجی دے کر اس دفاع کو مکمل کیا، اور معرکہِ حق میں کامیابی ہمیشہ عسکری و سیاسی قیادت کے اتحاد کا نتیجہ ہوتی ہے۔

امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے اپنے تہنیتی پیغام میں 28 مئی 1998ء کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا موڑ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو جس ایٹمی صلاحیت سے نوازا ہے، اس کی بدولت اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کرنے والے دشمن اب خوفزدہ ہیں۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پوری قوم محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور پاکستان کا یہ ایٹمی حصار پوری امتِ مسلمہ کے لیے تحفظ کی ڈھال اور باعثِ فخر ہے۔