امریکا اور حماس کے درمیان براہ راست مذاکرات، یرغمالیوں کی رہائی پر بات چیت

امریکی انتظامیہ نے پہلی بار حماس کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کیے ہیں، جن کا مقصد یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، مذاکرات کی قیادت ٹرمپ کے یرغمالیوں کے مشیر ایڈم بوہلر کر رہے ہیں اور یہ بات چیت حالیہ ہفتوں میں دوحہ میں ہوئی ہے۔ تاہم، اب تک کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے اسرائیل سے بھی مشاورت کے بعد یہ مذاکرات شروع کیے۔ 1997 میں حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب امریکا براہ راست مذاکرات میں شامل ہوا ہے۔

غزہ میں حماس کے قبضے میں ایک امریکی یرغمالی ایڈن الیگزینڈر اور دیگر افراد کی لاشیں موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔

فی الحال، امریکا اور حماس دونوں نے ان مذاکرات پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔