آئی ایم ایف کا منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری روکنے کے لیے اصل مالکان کی معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مشکوک مالی لین دین اور اس کے ذریعے ہونے والی منی لانڈرنگ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس شعبے میں غیر قانونی دولت کی کھپت روکنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرے۔

آئی ایم ایف کے مطابق رئیل اسٹیٹ اور غیر مالیاتی کاروباری اداروں کی جانب سے مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس کی تعداد انتہائی کم ہے، جو کہ اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ ملک میں ٹیکس چوری کا پیسہ اور کالا دھن بڑے پیمانے پر پراپرٹی کے شعبے میں لگایا جا رہا ہے۔

عالمی ادارے نے زور دیا ہے کہ قانونی اداروں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اصل مالکان یا ‘بینیفیشل اونر شپ’ کی معلومات کے تبادلے کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ مالیاتی نظام میں شفافیت لائی جا سکے۔

ان تمام تر تحفظات کے باوجود آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے ‘ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی’ کے تحت ایک اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی چوتھی قسط جاری کرنے کی اصولی منظوری دے دی ہے، جس کی تصدیق اعلیٰ سرکاری ذرائع نے بھی کی ہے۔

تاہم اس قسط کی منظوری کے ساتھ آئی ایم ایف نے تجارت کی آڑ میں ہونے والی منی لانڈرنگ یا ‘ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ’ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے تدارک کے لیے سخت شرائط رکھی ہیں۔

عالمی ادارے نے مطالبہ کیا ہے کہ درآمدی ادائیگیوں، فاریکس رپورٹنگ اور کسٹمز ڈیٹا کے حوالے سے مختلف سرکاری اداروں کے درمیان معلومات کے اشتراک کو مزید فعال بنایا جائے تاکہ بین الاقوامی تجارت کی آڑ میں رقم کی غیر قانونی منتقلی کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔

پاکستانی وفد نے آئی ایم ایف حکام کے ساتھ نیشنل رسک اسیسمنٹ سے متعلق تازہ ترین معلومات شیئر کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

اس سلسلے میں وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں ایف بی آر نے آمدنی چھپانے کے الزامات پر رئیل اسٹیٹ کی بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیوں پر چھاپے بھی مارے ہیں۔

مزید برآں، ایس ای سی پی کے مرکزی رجسٹر میں اصل مالکان کی معلومات کی درستگی کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹس سمیت تمام متعلقہ اداروں کو سسٹم کے ساتھ رجسٹر کرنے کی شرط کو لازمی قرار دیا جا رہا ہے تاکہ مالیاتی نگرانی کے نظام کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالا جا سکے۔