آبنائے ہرمز میں نئی طاقت کا توازن بن رہا ہے، ابھی تو ہم نے آغاز بھی نہیں کیا؛ ایرانی اسپیکر باقر قالیباف کی امریکا کو وارننگ

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کے باعث صورتحال انتہائی کشیدہ ہو رہی ہے اور خطے میں ایک نئی طاقت کا توازن تشکیل پا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک اہم بیان میں قالیباف نے الزام لگایا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس اہم ترین تجارتی گزرگاہ میں جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران موجودہ صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور اب حالات امریکا کے لیے مزید قابلِ برداشت نہیں رہیں گے۔

​باقر قالیباف نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ’نئی مساوات‘ اور حکمتِ عملی مضبوط ہو رہی ہے جس کے اثرات عالمی سطح پر مرتب ہوں گے۔ انہوں نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ ایران نے ابھی اپنی مکمل حکمتِ عملی کا آغاز بھی نہیں کیا اور موجودہ صورتحال کے تسلسل نے پہلے ہی امریکا کو پریشان کر رکھا ہے۔

ایرانی حکام کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں بحری حدود اور تجارتی راستوں پر کنٹرول کی جنگ شدت اختیار کر چکی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بیانات کا تبادلہ تیز ہو گیا ہے۔

​دوسری جانب، امریکا نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں اور جہاز رانی پر بحری ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے جس نے کشیدگی میں مزید اضافہ کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے نام سے ایک نئے بحری مشن کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو کھولنا اور وہاں پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں کو امریکی بحریہ کی نگرانی میں محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔

ماہرینِ معاشیات کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا اہم ترین مرکز ہے اور یہاں کسی بھی قسم کا تنازع عالمی توانائی کی منڈیوں اور عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔