مذہب یا محبت؟ بھارتی اداکارہ ریم شیخ نے شریکِ حیات کے لیے بڑی شرط رکھ دی

بھارتی ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ ریم شیخ نے بین المذاہب تعلقات اور شادی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کسی غیر مسلم شخص کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکیں گی۔ ایک حالیہ انٹرویو میں جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ کسی دوسرے مذہب کے فرد سے محبت کی صورت میں شادی کریں گی، تو انہوں نے دوٹوک جواب دیا کہ ان کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ ایک بہت مذہبی شخصیت کی مالک ہیں اور اپنی زندگی میں اسلامی اقدار کو بہت اہمیت دیتی ہیں۔ ریم شیخ نے انکشاف کیا کہ وہ باقاعدگی سے پانچ وقت کی نماز ادا کرتی ہیں اور اب انہوں نے روزے رکھنا بھی شروع کر دیے ہیں، اس لیے وہ اپنا شریکِ حیات بھی ایسا چاہتی ہیں جو ان کے عقیدے اور روحانیت سے مکمل ہم آہنگی رکھتا ہو۔

محبت اور رشتوں پر بات کرتے ہوئے ریم شیخ نے کچھ تلخ حقائق کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس محبت پر یقین نہ کرنے کی کئی وجوہات ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے گھر میں طلاق اور اپنے آس پاس رشتوں کو ٹوٹتے ہوئے دیکھا ہے۔ تاہم ان کا ماننا ہے کہ خدا سے جڑنے کے لیے بھی محبت کی ضرورت ہوتی ہے، اور اگر انسان کے دل میں محبت نہ ہو تو وہ خالق یا مخلوق کسی سے رشتہ نہیں بنا سکتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ریم شیخ خود ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جہاں ان کی والدہ ہندو اور والد مسلمان ہیں۔ اس متنوع خاندانی پس منظر کے باوجود ریم شیخ کا اپنی مذہبی شناخت پر سختی سے قائم رہنا اور اسلامی تعلیمات کو اپنانے کی کوشش کرنا سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ہر مشکل میں اللہ سے رجوع کرتی ہیں، اسی لیے وہ چاہتی ہیں کہ ان کا شریکِ حیات بھی اللہ پر ایمان رکھنے والا ہو۔

اداکارہ کے اس بیان نے ان کے مداحوں کو حیران کر دیا ہے کیونکہ وہ بچپن سے دو مختلف مذاہب کو قریب سے دیکھتی آئی ہیں۔ ریم شیخ کے مطابق ان کا موجودہ مؤقف ان کے ذاتی تجربات اور ان کے فکری و روحانی سفر کا نتیجہ ہے، جس میں وہ اب مذہب کو اپنی زندگی کا سب سے اہم ستون قرار دیتی ہیں۔