ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ان پر عائد ٹیکسوں اور مارجنز کی تفصیلی رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 153 روپے 55 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 116 روپے 46 پیسے مختلف ٹیکسز اور منافع کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔ پیٹرول کی ڈیوٹی سے پہلے کی اصل قیمت (ایکس ریفائنری) 246 روپے 31 پیسے ہے، لیکن عوام تک پہنچتے پہنچتے یہ قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو جاتی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت کا ایک بڑا حصہ پیٹرولیم لیوی پر مشتمل ہے جو کہ 103 روپے 50 پیسے فی لیٹر وصول کی جا رہی ہے، جبکہ اس میں 2 روپے 50 پیسے کی کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ شہریوں سے فی لیٹر پیٹرول پر 23 روپے 72 پیسے کسٹم ڈیوٹی بھی لی جا رہی ہے، جس کے باعث پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 32 فیصد حصہ صرف ٹیکسوں کا ہے۔
قیمتوں کے اس ڈھانچے میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کا حصہ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ایک لیٹر پیٹرول میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن 7 روپے 87 پیسے اور پمپ ڈیلرز کا کمیشن 8 روپے 64 پیسے شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 7 روپے 32 پیسے ان لینڈ فریٹ مارجن کی مد میں بھی وصول کیے جا رہے ہیں، جو پیٹرول کی حتمی قیمت کو تقریباً 400 روپے کی سطح پر لے جاتے ہیں۔
دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں، جہاں اس کی اصل ایکس ریفائنری قیمت 283 روپے 12 پیسے ہے لیکن تمام ٹیکسز اور منافع جات شامل کرنے کے بعد شہریوں کے لیے قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں 21 فیصد حصہ ٹیکسوں کا ہے، جس میں 51 روپے 62 پیسے کسٹم ڈیوٹی، 28 روپے 69 پیسے لیوی اور 2 روپے 50 پیسے کلائمیٹ سپورٹ لیوی شامل ہے۔
ان اعداد و شمار سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے زیادہ مقامی ٹیکسز اور لیویز عوامی بوجھ میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ عوام کو پیٹرول کی فراہمی میں ڈیوٹی سے پہلے اور بعد کی قیمتوں میں 153 روپے سے زائد کا بھاری فرق براہِ راست حکومتی خزانے اور متعلقہ کمپنیوں کے مارجنز کی صورت میں وصول کیا جا رہا ہے۔

