وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ قطر: امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات، غیر معمولی استقبال اور دفاعی و توانائی تعاون پر اتفاق

دوحہ: وزیراعظم محمد شہباز شریف اپنے سہ ملکی دورے کے دوسرے مرحلے میں سعودی عرب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کا تاریخی اور فقید المثال استقبال کیا گیا۔

قطری حکومت کی جانب سے غیر معمولی خیر سگالی کے اظہار کے طور پر، قطر کی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی قطری فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے وزیراعظم کے جہاز کو اپنے حفاظتی حصار میں لے لیا اور باحفاظت ایئرپورٹ تک پہنچایا۔

دوحہ ایئرپورٹ پر قطر کے وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور سلطان بن سعد المریخی نے وزیراعظم اور اعلیٰ سطح کے وفد کا پرتپاک استقبال کیا، جبکہ قطری مسلح افواج کے چاک و چوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔

اس موقع پر دوحہ کی اہم شاہراہوں اور ایئرپورٹ کو پاکستانی پرچموں سے سجایا گیا تھا، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے انتہائی گرمجوشی اور خوشگوار ماحول میں ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، سیکیورٹی، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات کے دوران خلیجی خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے قطر اور دیگر علاقائی ممالک پر ہونے والے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے قطری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی ایسی جارحیت کے خلاف ہے جو خطے کے امن کو داؤ پر لگائے۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مکالمے، کشیدگی میں کمی اور عالمی سطح پر قریبی رابطہ کاری کے ذریعے ہی پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

ملاقات کے بعد جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، وزیراعظم نے قطری پائلٹس اور قیادت کی جانب سے دیے گئے شاندار استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے قطر کی روایتی مہمان نوازی کا آئینہ دار قرار دیا۔

امیرِ قطر نے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور علاقائی امن بالخصوص ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کے مصالحتی کردار کو سراہا۔ دونوں ممالک نے اپنی پائیدار شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا، جس میں توانائی کی طویل مدتی فراہمی اور دفاعی پیداوار میں تعاون کلیدی اہمیت کے حامل ہوں گے۔

وزیراعظم کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان خلیجی ممالک کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو معاشی خود کفالت کے لیے استعمال کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے، اور امیرِ قطر کے ساتھ ہونے والی نتیجہ خیز گفتگو اس سمت میں ایک بڑا بریک تھرو ثابت ہوگی۔