پاکستان واحد ثالث ہے، مذاکرات نتیجہ خیز اور جاری ہیں، اگلا دور بھی اسلام آباد میں ہوگا؛ ترجمان وائٹ ہاؤس

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے ایک پُر ہجوم میڈیا بریفنگ کے دوران پاکستان کے کلیدی سفارتی کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں پاکستان واحد ثالث ہے اور اس نے اس پورے عمل میں ناقابلِ یقین حد تک بہترین کردار ادا کیا ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ باوجود اس کے کہ دنیا کے کئی ممالک نے ثالث بننے کی پیشکش کی ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ مذاکراتی عمل کو آسان اور مؤثر رکھنے کے لیے پاکستان کے ذریعے ہی آگے بڑھنا سب سے اہم ہے۔

کیرولین لیویٹ نے تصدیق کی کہ ایران کے ساتھ بات چیت نتیجہ خیز اور تعمیری انداز میں جاری ہے، اور قوی امکان ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور بھی اسی مقام یعنی اسلام آباد میں منعقد ہوگا جہاں پہلے مرحلے کی نشستیں ہوئی تھیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ان خبروں کی تردید کی کہ امریکہ نے باضابطہ طور پر جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صدر ٹرمپ کے مطالبات بالکل واضح ہیں اور ان پر عمل کرنا خود ایران کے بہترین مفاد میں ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ امریکی وفد کی قیادت ممکنہ طور پر نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کریں گے، جبکہ ایران کی جانب سے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی وفد کی نمائندگی کریں گے۔

اگرچہ ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک کوئی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی، لیکن اسلام آباد میں انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کو مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیاریوں کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

عالمی سلامتی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا نفاذ مکمل طور پر کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے ان جہازوں کو روکنا ہے جو ایرانی معیشت کو تقویت پہنچا سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ چینی صدر نے صدر ٹرمپ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ چین ایران کو کسی قسم کا اسلحہ فراہم نہیں کر رہا۔

یاد رہے کہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مرحلے کے 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مثبت پیش رفت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ نے اپنی تجاویز ایران کے سامنے رکھ دی ہیں اور اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔

پاکستان کی یہ سفارتی کامیابی خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک بڑا قدم قرار دی جا رہی ہے۔