عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ کا پاکستان کے لیے بڑا اعلان: ‘بی مائنس’ ریٹنگ اور مستحکم آؤٹ لک برقرار

اسلام آباد: عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی "فچ” نے پاکستان کے مالیاتی نظم و ضبط اور مجموعی معاشی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ملک کی طویل مدتی غیر ملکی کرنسی جاری کرنے والے ڈیفالٹ ریٹنگ کو ‘بی مائنس’ (B-) پر برقرار رکھا ہے، جبکہ مستقبل کا آؤٹ لک ‘مستحکم’ قرار دیا ہے۔

فچ کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی ریٹنگ اس کے مالیاتی استحکام اور میکرو اکنامک اقدامات میں ہونے والی نمایاں پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے، جو بڑی حد تک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے پروگرام کے مطابق ہے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف بورڈ کی آئندہ منظوری کے بعد پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط ملنے کی توقع ہے، جو دیگر کثیر جہتی اور دوطرفہ مالی تعاون کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

فچ ریٹنگز نے پاکستان کے حالیہ بین الاقوامی سفارتی کردار کو بھی معاشی تناظر میں اہمیت دی ہے، جس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں ثالث کے طور پر پاکستان کا فعال کردار اسے ٹھوس معاشی فوائد فراہم کر سکتا ہے اور بیرونی دباؤ کو جزوی طور پر کم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں ہونے والی بہتری مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی سے پیدا ہونے والے معاشی اثرات اور توانائی کے خطرات کے خلاف ایک ڈھال فراہم کرتی ہے۔

فچ کا تخمینہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر، جو فروری میں 28.4 ارب ڈالر تھے، مالی سال کے اختتام تک بیرونی ادائیگیوں کے باوجود 21.3 ارب ڈالر کی مستحکم سطح پر رہ سکتے ہیں۔

مستقبل کی پیش گوئیوں کے حوالے سے فچ کا کہنا ہے کہ مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرحِ نمو (GDP) 3.1 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ مہنگائی کی شرح 7.9 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، پالیسی ریٹ میں کمی سے کاروباری اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، تاہم پاکستان کو مالی سال کے دوران 12.8 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کرنا ہوگی، جو جی ڈی پی کا تقریباً 2.9 فیصد بنتی ہے۔

ایجنسی نے مزید کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 1.1 فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ فچ کی یہ رپورٹ عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثبت پیغام ہے کہ پاکستان کا معاشی راستہ درست سمت میں گامزن ہے اور ملک کی فنڈنگ کی صلاحیت پہلے سے بہتر ہو رہی ہے۔