اسلام آباد: وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کو مؤخر کرنے پر ردِعمل دیتے ہوئے اسے ‘کھودا پہاڑ نکلا چوہا’ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی انتظامی کے بعد اب سیاسی اور اخلاقی طور پر بھی فارغ ہو چکے ہیں۔
اسلام آباد میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی لانگ مارچ کی کوئی تیاری ہی نہیں تھی اور اپنے ہی کارکنوں سے جھوٹ بولا گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کا دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے اسی لیے وہ ان کی مذمت کرنے سے گریزاں ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز اور پولیس دہشت گردی کے خلاف مسلسل قربانیاں دے رہی ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین، کشمیر اور امتِ مسلمہ کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑا، جس کی عالمی سطح پر پذیرائی کی گئی ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب میں اختیار ولی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اگر راہِ فرار اختیار ہی کرنی تھی تو لانگ مارچ کا اعلان کیوں کیا؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کو امن و امان کے لیے دیے گئے 800 ارب روپے کے باوجود صوبائی حکومت ناکام رہی ہے اور تحریک انصاف پولیس فورس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

