اسلام آباد: ترکیہ کی معروف خبر رساں ایجنسی نے ایک اہم رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (UAE) کو واجب الادا رقم کی واپسی کے سلسلے میں سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق، گزشتہ روز سعودی وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی اور اس کے نتیجے میں پاکستان پر بڑھتے ہوئے بیرونی معاشی دباؤ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اس ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی، جہاں پاکستان کی جانب سے سعودی عرب سے موجودہ نقد ڈپازٹس میں اضافے اور تیل کی سہولت (Oil Financing Facility) کی مدت میں توسیع کی درخواست کی گئی، جو رواں ماہ کے آخر میں ختم ہونے والی ہے۔
ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور قطر کی جانب سے اس 5 ارب ڈالر کے مالی تعاون کا مقصد اسلام آباد کے کمزور زرِ مبادلہ ذخائر پر دباؤ کم کرنا اور بیرونی ادائیگیوں کو سہل بنانا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے اپریل کے اختتام تک متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ ابوظبی کی جانب سے فوری ادائیگی کی درخواست موصول ہوئی تھی۔
ایک سینئر پاکستانی اہلکار کے مطابق، اگرچہ اس ملاقات کے بعد ابھی تک کسی باضابطہ معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم دونوں برادر ممالک کے درمیان مالی معاونت کے طریقہ کار پر سنجیدہ بات چیت شروع ہو چکی ہے جو جلد حتمی شکل اختیار کر لے گی۔
پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر اس وقت تقریباً 16.4 ارب ڈالر ہیں، تاہم درآمدی اخراجات اور قرضوں کی اقساط کے باعث ان پر مسلسل دباؤ برقرار ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب کا پاکستان کی حمایت کے لیے آگے آنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اس مالیاتی پیکج سے نہ صرف پاکستان کو اپنی فوری بیرونی ادائیگیاں کرنے میں مدد ملے گی بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے بھی پاکستان کی پوزیشن مستحکم ہوگی۔
حکام کے مطابق، حکومتِ پاکستان مختلف بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ملکی صنعت کاروں کے مجوزہ 2 ارب ڈالر کے فنڈ اور دوست ممالک کے تعاون سے معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

