معاشی استحکام کی جانب بڑی پیش رفت، پاکستان نے 1.42 ارب ڈالر کا غیر ملکی قرض بروقت ادا کر دیا

اسلام آباد: حکومت پاکستان نے معاشی نظم و ضبط اور عالمی مالیاتی وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے 1.42 ارب ڈالر سے زائد کا غیر ملکی قرض بروقت ادا کر دیا ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، پاکستان نے 1.3 ارب ڈالر مالیت کے یورو بانڈ کی ادائیگی کر دی ہے، جو اپنی 10 سال کی مدت مکمل کرنے کے بعد 8 اپریل 2026 کو میچور ہو چکا تھا۔ اس اصل رقم کے ساتھ ساتھ حکومت نے دیگر یورو بانڈز پر واجب الادا 12 کروڑ 61 لاکھ ڈالر (126 ملین ڈالر) سود کی مد میں بھی ادا کیے ہیں۔

اس طرح پاکستان کی جانب سے آج مجموعی طور پر ایک ارب 42 کروڑ ڈالر سے زائد کی ادائیگیاں مکمل کی گئی ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اور اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے ایک بیان میں اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ قرض کی تمام ادائیگیاں کسی بھی بیرونی دباؤ کے بغیر، معمول کے مطابق اور طے شدہ وقت پر مکمل کی گئی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان بھاری ادائیگیوں کے باوجود پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اور مالی گنجائش میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں، جو حکومت کی کامیاب قرض مینجمنٹ اور معاشی پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

خرم شہزاد کے مطابق اس بروقت ادائیگی سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی ساکھ بہتر ہونا شروع ہو گئی ہے، جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یورو بانڈ کی کامیابی سے واپسی اور سود کی بروقت ادائیگی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی بیرونی مالیاتی ذمہ داریاں پوری کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف ملکی معیشت میں استحکام آئے گا بلکہ مستقبل میں عالمی اداروں سے مالیاتی تعاون کے حصول میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔

وزارت خزانہ نے اعادہ کیا ہے کہ حکومت قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے اور معاشی نظم و ضبط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ملک پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ آج کی اس بڑی ادائیگی کے بعد مارکیٹ میں مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے اور مقامی معاشی حلقوں نے اسے حکومت کی ایک بڑی مالیاتی کامیابی قرار دیا ہے۔