آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایک رات میں پورا ایران ختم کر دیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی، منگل کی رات تک آخری الٹی میٹم جاری
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اب تک کا سخت ترین بیان دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے منگل کی رات تک امن معاہدہ نہ کیا یا آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے نہ کھولا تو پورے ملک کو ایک ہی رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے۔
واشنگٹن میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے لیے منگل کی ڈیڈ لائن حتمی ہے اور اگر رات 12 بجے تک کوئی ڈیل نہ ہوئی تو ایران کے تمام پاور پلانٹس، پلوں اور اہم شہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر انہیں ملبے کا ڈھیر بنا دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ امریکی حملوں سے ایران کا انفراسٹرکچر اس حد تک تباہ ہو جائے گا کہ اسے بحالی میں 100 سال لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے حوالے سے بالکل فکر مند نہیں ہیں کیونکہ ایران کو تنازع ختم کرنے کا موقع دیا گیا تھا جس سے انہوں نے فائدہ نہیں اٹھایا۔
پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران کی سرزمین سے ایک لاپتہ امریکی پائلٹ کو نکالنے کے لیے کیے گئے ریسکیو آپریشن کو تاریخ کا بہترین مشن قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس خطرناک مشن میں 21 امریکی فوجی طیاروں نے حصہ لیا جبکہ ایک دوسرے بڑے معاون آپریشن میں مجموعی طور پر 155 طیارے شامل تھے، جن میں 4 بمبار، 64 لڑاکا اور 48 ایندھن فراہم کرنے والے طیارے شریک تھے۔
امریکی صدر کے مطابق ریسکیو آپریشن کے دوران امریکی فوج کو شدید فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا اور ایران میں ایک ایف 15 طیارہ بھی گرا دیا گیا، تاہم فلائٹ عملے نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر دن کی روشنی میں پائلٹ کو بحفاظت نکال لیا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اس کارروائی کے دوران امریکہ نے اپنے دو جہازوں کو خود ہی تباہ کیا تاکہ وہ دشمن کے ہاتھ نہ لگ سکیں، جبکہ مشن میں شریک 200 فوجیوں میں سے کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔
صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی سیاست اور ماضی کے واقعات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ نیٹو کے کردار سے سخت مایوس ہیں، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے اب تک 8 بڑی جنگیں رکوائی ہیں جن میں پاک بھارت جنگ بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ان کی ان کوششوں کا اعتراف کیا ہے کہ اس سے لاکھوں جانیں بچیں۔
ایران کے حوالے سے اپنے مستقبل کے منصوبوں پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وٹکوف، کشنر اور جے ڈی وینس ایرانی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اگرچہ پچھلی مرتبہ ڈیل ٹوٹ گئی تھی، لیکن اب بھی مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ امریکہ کے پاس دنیا کا بہترین جنگی سازوسامان ہے اور اگر ضرورت پڑی تو محض 4 گھنٹے میں پورے ایران کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل امن کا خواہاں ہے، جس کے بعد اس تازہ ترین الٹی میٹم نے خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے کر دیے ہیں۔

