آئی ایم ایف کا مشن 3 مارچ کو پاکستان پہنچے گا، اگلی قسط کے لیے مذاکرات شروع ہوں گے

بیل آؤٹ پیکیج کی ایک ارب ڈالر قسط کے لیے اقتصادی مذاکرات 15 مارچ تک جاری رہیں گے، آئی ایم ایف بجٹ تجاویز بھی دے گا۔

پاکستان کو 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج میں سے اگلی ایک ارب ڈالر کی قسط کے حصول کے لیے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کا جائزہ مشن 3 مارچ کو اسلام آباد پہنچے گا۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کے ساتھ اقتصادی جائزہ مذاکرات دو مراحل میں ہوں گے، جن میں پہلے تکنیکی اور بعد میں پالیسی سطح پر مذاکرات کیے جائیں گے۔

آئی ایم ایف کا 9 رکنی وفد نیتھن پورٹر کی قیادت میں تقریباً دو ہفتے پاکستان میں قیام کرے گا۔ اس دوران وہ آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ کے حوالے سے تجاویز بھی دے گا، جن پر رضامندی کی صورت میں تنخواہ دار طبقے کو ممکنہ ریلیف دیا جا سکے گا۔

ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف وفد وزارت خزانہ، وزارت توانائی، منصوبہ بندی، اسٹیٹ بینک، ایف بی آر، اوگرا، نیپرا سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے بھی مذاکرات کرے گا، تاکہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے ضروری اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔