امریکا کے بی ٹو بمبار طیارے ایران کی جانب روانہ، حملوں میں مزید شدت کا امکان

واشنگٹن: امریکا نے ایران پر مزید حملوں کے لیے بی ٹو بمبار طیارے روانہ کر دیے ہیں جبکہ خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ بی ٹو بمبار طیاروں کی تعیناتی کا مقصد طویل فاصلے سے حملے کرکے نہ صرف ایرانی حکومت سے لاحق خطرے کو ختم کرنا ہے بلکہ مستقبل میں اس کی عسکری طاقت دوبارہ بحال کرنے کی صلاحیت کو بھی محدود کرنا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی قیادت زیر زمین منتقل ہو چکی ہے کیونکہ آج انتہائی سخت حملوں کی توقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی اور انہیں روکنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق ایران پر روزانہ اوسطاً 1000 سے زائد حملے کیے جا رہے ہیں جن میں امریکی فضائیہ اور اسرائیلی فضائیہ مشترکہ طور پر کارروائیاں انجام دے رہی ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایران کی فوجی صلاحیت کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل کا مقصد ایران کی اہم فوجی صلاحیتوں کو مکمل طور پر تباہ یا غیر فعال کرنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ دنوں میں ایران کی دفاعی صنعت سے وابستہ کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ادھر اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 200 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا جبکہ تہران، شیراز اور اہواز سمیت مختلف شہروں میں بھی حملوں کی اطلاعات ہیں۔

مزید برآں امریکا نے جنوبی کوریا میں نصب دفاعی نظام تھاڈ کو اسرائیل منتقل کر دیا ہے تاکہ اسرائیل کے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔