ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا پیغام، آبنائے ہرمز بند رکھنے اور شہداء کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان

تہران: ایران کے نومنتخب سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلا پیغام سامنے آگیا جس میں انہوں نے شہداء کے خون کا بدلہ لینے اور آبنائے ہرمز بند رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اپنے آڈیو پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ان کا نیا عہدہ ان سے بہت سی ذمہ داریوں کا تقاضا کرتا ہے اور عوام کی حمایت کے بغیر کسی بھی رہنما کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے حالیہ واقعات میں اپنی بصیرت، جرات اور ثابت قدمی سے دنیا کو دکھا دیا کہ وہ ایک عظیم اور متحد قوم ہے۔

نئے سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ شہداء کے خون کے بدلے کے حق سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے اور دشمن کو اس کا حساب دینا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دشمن پر دباؤ ڈالنے کے لیے آبنائے ہرمز کو بند رکھا جانا چاہیے اور اس اختیار کو ضرورت کے مطابق استعمال کیا جائے گا۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران صرف ان فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو دشمن کے زیر استعمال ہیں اور آئندہ بھی یہی حکمت عملی جاری رکھی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی زمینی اور سمندری سرحدیں 15 ممالک سے ملتی ہیں اور ایران اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ گرمجوش اور تعمیری تعلقات کا خواہاں ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ کی صورتحال برقرار رہی تو دشمن کے خلاف دیگر محاذ بھی کھولے جا سکتے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر نے یہ بھی اعلان کیا کہ جنگ میں زخمی ہونے والوں کو مفت اور بہتر طبی سہولتیں فراہم کی جائیں گی جبکہ مالی نقصانات اور املاک کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر دشمن نقصان کا ازالہ نہیں کرتا تو ایران اپنے نقصان کے برابر ان کے اثاثے ضبط یا تباہ کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔