مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران پر جتنا زیادہ دباؤ ڈالا جائے گا اس کا ردعمل بھی اتنا ہی سخت ہوگا اور ملک دھونس، دھمکیوں اور جارحیت کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا۔
ایرانی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران ناانصافی اور دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا اور دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی بھی ملک کی جانب سے ایران کی حدود پر حملہ یا دراندازی کی گئی تو اس کا جواب دینا ایران کا جائز حق ہے۔
مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ کسی ملک کے خلاف دفاعی کارروائی کا مطلب یہ نہیں کہ اس ملک کے عوام کے ساتھ تعلقات خراب کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران خطے کے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران نے خطے کے دوست ممالک کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ خطے میں موجود امریکا کی فوجی تنصیبات اور اڈوں کو ہدف بنایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو باہمی اختلافات خود حل کرنے چاہئیں اور ان قوتوں کی سازشوں کو ناکام بنانا چاہیے جو خطے کو جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
صدر پزشکیان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران کی مسلح افواج ملک کے دفاع کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیں گی۔

