ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب پر پیشرفت، اکثریتی اتفاق رائے ہونے کا دعویٰ

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب کے معاملے پر اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ایران کی طاقتور مذہبی کونسل مجلس خبرگان کے ایک رکن نے دعویٰ کیا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کے نام پر ارکان کے درمیان تقریباً اکثریتی اتفاق رائے ہو چکا ہے۔

مجلس خبرگان کے رکن آیت اللہ محمد مہدی میرباقری نے ایرانی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے عمل میں کافی پیش رفت ہو چکی ہے، تاہم اس عمل میں ابھی چند رکاوٹیں موجود ہیں جنہیں دور کیا جا رہا ہے۔

ایران کے آئین کے مطابق ملک کے سپریم لیڈر کا انتخاب 88 رکنی مجلس خبرگان کرتی ہے۔ اس کونسل کے ارکان حتمی فیصلے کے لیے اجلاس منعقد کرتے ہیں اور نئے رہنما کا انتخاب کرتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق آیت اللہ محسن حیدری آل کثیر نے کہا ہے کہ موجودہ سکیورٹی صورتحال کے باعث ارکان کا روایتی بالمشافہ اجلاس منعقد کرنا مشکل ہے، تاہم ایک امیدوار پہلے ہی منتخب کیا جا چکا ہے اور مناسب وقت پر اس کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

اسی دوران مجلس خبرگان کے ایک اور رکن حجت الاسلام جعفری کا کہنا ہے کہ ایرانی عوام جلد ہی اس فیصلے سے مطمئن ہوں گے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ نئے رہنما کے انتخاب میں تاخیر تشویش کا باعث ہے، مگر موجودہ حالات میں احتیاط ضروری ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں عندیہ دیا ہے کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کے ممکنہ سپریم لیڈر کے طور پر قبول نہیں کریں گے۔